رسائی کے لنکس

logo-print

لندن: متفرق قومیتوں والے اسکولوں کی ڈرامائی کامیابی


ملک کے باقی حصوں کے مقابلے میں اندرون لندن کے اسکولوں میں مختلف قومیتوں کے بچوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تعلیم حاصل کرنا نتائج میں ڈرامائی بہتری کی ایک بڑی وجہ ہو سکتا ہے: رپورٹ

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں مختلف قومیتوں کے پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ انگلینڈ کے باقی حصوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر تعلیمی نتائج دے رہے ہیں۔

ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے باقی حصوں کے مقابلے میں اندرون لندن کے اسکولوں میں مختلف قومیتوں کے بچوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تعلیم حاصل کرنا دارالحکومت کے اسکولوں کے نتائج میں ڈرامائی بہتری کی ایک بڑی وجہ ہو سکتا ہے۔

'انسٹی ٹیوٹ فار فسکل اسٹڈیز' کی تحقیقی رپورٹ سے ظاہر ہوا ہے کہ اندرون لندن کے 54 فیصد طالب علم جو پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے میٹرک (جی سی ایس سی) کے امتحانات میں 5 یا زائد اے اسٹار سے سی گریڈ حاصل کئے جن میں ریاضی اور انگریزی کے مضامین بھی شامل تھے۔

جبکہ ان کے مقابلے میں اوٹر لندن میں یہ تناسب 48 فیصد ویسٹ مڈ لینڈز میں40 فیصد اور ملک کے باقی حصوں میں 30 سے 35 فیصد رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ،1990 اور ابتدائی 2000 کی دہائی کے درمیان انر لندن کے پرائمری اسکولوں کے نتائج میں تیزی سے بہتری آئی خاص طور پر لندن کے 13 فیصد پسماندہ طلباء نے 8 مضامین میں اے اسٹار اور بی گریڈ حاصل کئے جبکہ ملک کے باقی حصوں میں یہ تناسب 3.6 فیصد رہا۔

مصنف لیوک سبیتا نے کہا کہ ، لندن کے ثانوی اسکولوں کی مخصوص پالیسیاں اس بہتری کی بنیادی وجہ نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ ، ثانوی اسکولوں کے پسماندہ طلباء گذشتہ ایک دہائی سے اعلی سطح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں لیکن انر لندن کے پرائمری اسکولوں کے نتائج میں بہتری ایک اہم کامیابی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اندرونی لندن کے اضلاع میں طالب علموں کے بہتر نتائج کا ایک اہم سبب ان علاقوں کے اسکولوں میں نسلی گروہوں کی شمولیت ہو سکتا ہے۔

مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ،سال 2012 تک لندن کے اندرونی اضلاع کے اسکولوں کے 80 فیصد طالب علموں کا تعلق سفید فام گروہوں سے نہیں تھا جبکہ ملک کے باقی حصوں میں نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کا کل تناسب 14 فیصد تھا۔

XS
SM
MD
LG