رسائی کے لنکس

logo-print

ٹیکس کی وصولی کے لیے خواجہ سراؤں کی بھرتیاں


ٹیکس کی وصولی کے لیے خواجہ سراؤں کی بھرتیاں

ہمسایہ ملک بھارت کی بعض ریاستوں میں خواجہ سراؤں کو ٹیکس کی وصولی کے لیے سرکاری ملازمتیں دینے کے تجربے کے بعد اب پاکستان میں بھی بعض اداروں نے اس مقصد کے لیے خواجہ سراؤں کی خدمات حاصل کرنا شروع کر دیں ہیں جس کی ابتدا کراچی میں کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ نے کی ہے۔

ادارے کے ایک عہدے دار قاضی ندیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں پانچ خواجہ سراؤں کو تین ماہ کے لیے عارضی ملازمت دی گئی ہے اور یہ تجربہ خاصا مفید رہا ہے کیونکہ ٹیکس کی وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔

بندیا رعنا
بندیا رعنا

کراچی میں خواجہ سراؤں کی ”جیا “ نامی تنظیم کی سربراہ بندیا رعنا کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے اس اقدام کے بعد اب دوسرے اداروں کو بھی چاہیئے کہ وہ خواجہ سراؤں کو روزگار کے مواقع فراہم کریں تاکہ معاشرے کے اس محروم طبقے کے معاشی مسائل حل ہو سکیں۔

پاکستان میں سپریم کورٹ نے حالیہ دنوں میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے حکومت کو مختلف ہدایات دی ہیں جن میں اس برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی قومی رجسٹریشن کے معاملے کو حل کرنا، جائداد میں حصہ دینا اور انھیں معاشرے کا متحرک رکن بنانے کے لیے روزگار دینا شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG