رسائی کے لنکس

logo-print

یورپ میں ایئر پورٹ سکیورٹی پر نئی بحث



کرسمس کے دن ایک امریکی طیارے کو بم سے اڑانے کی ناکام کوشش کے بعد ہوائی بازی سے متعلق یورپی عہدے دار ہوائی اڈوں کی سکیورٹی سے متعلق گفتگو کے لیے برسلز میں ملاقات کررہے ہیں اور طیاروں اور مسافروں کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کے حکومتی فیصلے کے بعد برطانوی حکام بھی اس سلسلے میں اقدامات کررہے ہیں۔

ہوابازی سے متعلق یورپی کمشن کے ترجمان کا کہناہے کہ کمشن کے ہوابازی سے متعلق امور کے ماہرین جمعرات کے روز ایک اجلاس کررہے ہیں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ یہ ہوابازی کی سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ ہے اور وہ تعطیلات کے دنوں میں رونما ہونے والے واقعہ کے بعد کی صورت حال کے حوالے سے ملاقات کررہے ہیں۔

اگرچہ انہوں نے اس بارے میں واضح طورپر کچھ نہیں بتایا کہ کمیٹی اس سلسلے میں کیا اقدامات کرے گی ، یہ امکان موجود ہے کہ پورے جسم کی سکینگ کرنے والے آلات پر بحژ ہوگی۔ یورپی اقوام ہوائی اڈوں پر ان سکینرز کی تنصیب کے حوالے سے منقسم ہیں۔ جرمنی اور کئی دوسرے ملکوں کے عہدے دار ان سکینرز پر صحت اور پرائیویسی کے مسائل کے حوالے سے ان پر اعتراض کرچکے ہیں۔

نیدر لینڈز اور برطانیہ آنے والے ہفتوں میں ان سکینرز کی تنصیب کا اعلان کرچکے ہیں۔

یورپی کمشن کی ایک اور ترجمان ہل فریش کا کہنا ہے کہ فی الحال یورپی یونین کے قوانین رکن ممالک کو پورے جسم کی سیکنگ کرنے کے آلات کی تنصیب سے منع نہیں کرتے۔ اس حوالےسے یورپی یونین کی پوزیشن واضح ہے۔

ادھر برطانیہ میں ، سکیورٹی کے نئے اقدامات پر گفتگو کے لیے ایئر پورٹ سکیورٹی کے اعلیٰ عہدے دار سرکاری حکام سے ملاقات کررہے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کے اس ہفتے کے اعلان پر کہ برطانوی ہوائی اڈوں پر اگلے تین ہفتوں میں سکینرز لگادیے جائیں گے،شہری آزادیوں کے تحفظ کی تنظیموں مثلاًپرائیویسی انٹرنیشنل کے سائمن ڈیویس نے احتجاج کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک ایسی مشین ہے جو الیکٹرانک طریقے سے لوگوں کی تلاشی لے گی۔ وہ بچوں بوڑھوں اور ہر ایک کے پورے جسم کی تلاشی لے گی اس بات سے قطع نظر کہ اس کی عمر کیا ہے ، اور وہ قصور وار ہے یا نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدام شہریوں کے عزت نفس اور ان کے حقوق کے منافی ہے۔ اگر اب آپ یہ ثابت کرسکیں کہ یہ مشینیں ہماری سکیورٹی کے لیے ضروری ہیں تو پھر میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ انہیں اعتدال کے ساتھ استعمال کریں۔

ڈیویس کہتے ہیں کہ انہیں سکینرز پر صرف پرائیویسی کے مسائل کے پیش نظر ہی اعتراض نہیں ہے بلکہ اس لیے بھی کہ ان کی تنصیب پیسے کا ضیاع بھی ہے۔وہ کہتے ہیں سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے انسداد دہشت گردی کے لیے محدود رقوم کا استعمال آزمائے ہوئے اور صحیح ثابت شدہ طریقوں پر کیا جانا چاہیے نہ کہ ان کا رخ ایسے ذرائع کی طرف موڑ دیا جائے جو کبھی مفید ثابت نہ ہوئے ہوں ، وہ صرف قیاس آرائی پر یا کسی ایسے مفروضے پر مبنی ہوں جو ممکن ہے مستقبل میں کبھی مفید ثابت ہو سکیں۔

ہوابازی کے امور کے تجزیہ کار کرس یاٹس کہتے ہیں کہ یہ سکینرز مؤثر ہیں مگر انہیں سکیورٹی کی جانچ پڑتال کے دوسرے طریقوں کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہوائی اڈوں کی سکیورٹی کے نقطہ نظر سے پورے جسم کی سیکنگ کرنے کے آلات آپ کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں، لیکن یہ واحد طریقہ نہیں ہے۔ باڈی سیکنرز صرف پہلا عنصر ہیں، ہمیں دوسری چیزوں پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے ، مثلاً مائع وغیرہ، ہمیں زیادہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی پر توجہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

سکیورٹی کے حوالےسے جدید ٹیکنالوجی میں ایسی سراغ رسان مشینیں شامل ہیں جو یہ نشان دہی کرسکتی ہیں کہ زیر معائنہ شخص کا دھماکہ خیز مواد سے کبھی کوئی تعلق رہاہے۔ صدر اوباما نے کرسمس کے موقع پر بم دھماکے کی کوشش کو انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیا ہے ۔ یاٹس کہتے ہیں کہ انٹیلی جنس تو مسافروں کے تحفظ کے لئےجزوی طورپر ذمہ دار ہے ۔ وہ کہتے ہیں سکیورٹی کے لیے ہمیشہ ٹیکنالوجی اور طریقہ کار ، دونوں کا مشترکہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں تک طریقہ کار کا تعلق ہے تو مسافروں کی زیادہ بہتر طورپر جانچ پڑتال ہونی چاہیے مگر وہ لازمی طور پر نسل، مذہب یا کسی عقیدے کی بنا پر نہیں ہونی چاہیے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا باڈی سیکنرز کرسمس کے موقع پر ناکام بم دھماکہ کرنے والے کو شناخت کرسکتے تھے ۔ کیونکہ سیکنرز مائع یا پلاسٹک کا ہمیشہ کھوج نہیں لگاسکتے۔ ہوابازی کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ خوش قسمتی تھی کہ طیارے میں بم درست طریقے سے پھٹ نہیں سکا تھا۔ یورپی حکومتیں اب ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کے ایسے اقدامات کرنا چاہتی ہیں جو قابل ِ اعتبار ہوں اور اتفاقات پر انحصار نہ کریں ۔

XS
SM
MD
LG