رسائی کے لنکس

قبائلی علاقوں سے ہونہار طالبہ کی سی ایس ایس میں نمایاں پوزیشن


پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی ایک ہونہار طالبہ ملک کی سول سروسز کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں جسے قبائلی علاقوں کی خواتین کے لیے ایک مثبت پیغام اور مشعل راہ قرار دیا جا رہا ہے۔

زرمینہ وزیر کا تعلق مرکزی قصبے وانا سے ہے اور انھوں نے سنٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) 2016ء کے امتحانات میں قبائلی علاقوں سے پہلی پوزیشن حاصل کی۔

اس کامیابی کے بعد انھیں پاکستان ایڈمنسٹریٹوو سروسز گروپ تفویض کیا گیا ہے جو کہ پہلے ڈی ایم جی کہلاتا تھا۔

شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں خواتین کے حقوق کے لیے ایک سرگرم کارکن تبسم عدنان، زرمینہ وزیر کی کامیابی صوبے اور خصوصاً قبائلی علاقوں کی لڑکیوں کے لیے ایک حوصلہ افز امر قرار دیتی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے بھی ایک خوش کن خبر ہے۔

"اس طرح کی خبر کافی اہم ہے آپ خود دیکھیں کتنی تبدیلیاں آئی ہیں عورتوں کی سوچ بھی تبدیل ہوتی ہے جب وہ دیکھتی ہیں کہ اگر کوئی عورت اتنی ہمت کر رہی ہے، آگے بڑھ رہی ہے یا کچھ بول رہی ہے تو (اور عورتیں بھی) متاثر ہوتی ہیں بلکہ عورتیں ہی نہیں مرد بھی ہوتے ہیں اور پھر وہ بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔"

زرمینہ اس گروپ تک رسائی میں کامیاب ہونے والی قبائلی علاقوں سے پہلی خاتون ہیں۔ وہ سابق سفارتکار اور معروف تجزیہ کار ایاز وزیر کی صاحبزادی ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں کو عموماً سخت گیر روایات اور انتہا پسندی کے تناظر میں ہی دیکھا جاتا ہے لیکن یہاں سے تعلق رکھنے والے اکثر نوجوان ایسے بھی ہیں جو کسی نہ کسی شعبے میں اپنا اور اپنے علاقے کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے ہی تعلق رکھنے والی ماریا طورپکئی وزیر اس وقت پاکستان خواتین اسکوائش کی صف اول کی کھلاڑی ہیں جب کہ ان کی بہن عائشہ گلالئیے قومی اسمبلی کی رکن ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG