رسائی کے لنکس

فورٹ ہُڈ میں متعدد ہلاکتوں کے الزام پر سزا کی صورت میں، میجر نِدال حسن کو موت کی سزا ہو سکتی ہے

طویل انتظار کے بعد، امریکی فوج کے سائکیاٹرسٹ کےخلاف مقدمے کی سماعت کے لیے جیوری کے چُناؤ کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جِن پر 2009ء میں ٹیکساس کے فوجی اڈے پر حملہ کرکے 13اہل کاروں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔

فورٹ ہُڈ میں متعدد ہلاکتوں کے الزام پر سزا کی صورت میں، میجر نِدال حسن کو موت کی سزا ہو سکتی ہے، جو کہ تاریخ میں کسی امریکی فوجی اڈے پر کیا جانے والا بدترین حملہ تھا۔

حسن نے، جو 42برس کے اور امریکہ میں پیدا ہونے والے مسلمان ہیں، کہا ہے کہ اُنھوں نے نومبر 2009ء میں فوجی اڈے پر اِس لیے فائر کھولا تاکہ وہ مسلمانوں اور طالبان کو، اُن کے بقول، امریکہ کے حملے سے بچا سکیں۔

اُنھیں قتل ِعمد کے 13 اور قاتلانہ حملے کے 32 الزامات کا سامنا ہے۔

ملزم جنھیں حملے کے دوران پولیس کی گولیاں لگی تھیں، اُن کا نچلا دھڑ مفلوج ہے۔ وہ اپنی وکالت خود کریں گے۔

جیوری کی نامزدگی میں کئی ایک ہفتے لگ سکتے ہیں، جب کہ گواہوں کے بیانات اگست میں قلم بند ہوں گے۔

مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کا کہنا ہے کہ حسن اپنے سابق وکیل ِصفائی سے مدد لے سکتے ہیں، اور جیوری کے مشیر کی خدمات بھی اُنھیں حاصل ہوں گی۔ فوجی ضابطوں کی رو سے، نامزد کیےجانے والے جیوری کے ارکان حسن کے ہی رینک یا اُس سے اعلیٰ رینک کے ہونے چاہئیں۔

کئی تجزیہ کاروں اور ہلاک شدگان کےاہل خانہ نے مقدمے کے سلسلے میں قانونی ضابطوں میں تاخیر کی شکایت کی ہے۔
XS
SM
MD
LG