رسائی کے لنکس

logo-print

فرانس میں سپرمارکیٹوں پر غذائی کچرا پھینکنے پر پابندی


نئی قانون سازی کے تحت سپر مارکیٹوں کو غذائی اشیاء کو کوڑے دان میں پھینکنے کی بجائے عطیہ کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

فرانس میں قومی سطح پر خوارک کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت قوانین متعارف کرائےجا رہے ہیں۔

مجوزہ قانون کے تحت خوردہ فروش مارکیٹوں کے لیےضایع ہو جانے والی غیر فروخت شدہ غذائی اشیاء کو کوڑے دانوں میں پھینکنا قانوناً جرم ہوگا جبکہ نئے اقدامات کی رو سے سپر مارکیٹوں کو ضائع شدہ خوارک خیراتی اداروں کو عطیہ کرنا ہوں گی۔

اخبار گارڈین کے مطابق نئی قانون سازی کے تحت فرانس کی حکومت نے سپرمارکیٹوں پرکھانے پینے کی اشیاء کو ضائع کرنے پر پابندی عائد کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی حکومت 2025 تک قومی سطح پر خوراک کے ضیاع کو نصف کرنے کے اہداف پرکام کر رہی ہے اور یہ نئی حکمت عملی اس سلسلے میں کی جانے والی وسیع تر کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

جمعرات کو فرانسیسی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر نئے قانون کی منظوری دی ہے،جس کا مقصد سپر مارکیٹوں کی اس مشق پر پابندی عائد کرنا ہے جس میں غیر فروخت شدہ خوارک کو اس لیے تباہ کردیا جاتا ہے تاکہ وہ کھانے کے قابل نا رہ سکے۔

فرانسیسی سوشلسٹ جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیرخوارک گئیوم گیراٹ جنھوں نے مسودہ قانون تیار کیا ہے، نے کہا کہ 'یہ تکلیف دہ بات ہے کہ سپر مارکیٹوں کے کچرا دانوں میں خوردنی خوراک کے ساتھ بلیچ ڈالا جارہا ہے۔'

مجوزہ قوانین کا اطلاق 400 مربع میٹر اور اس سے زیادہ بڑی مارکیٹوں پر ہوگا جو آئندہ سال جولائی میں خیراتی اداروں کے ساتھ رسمی معاہدوں پر دستخط کرنے کی پابند ہوں گی۔

علاوہ ازیں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 75 ہزار یورو کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا یا پھر دو برس جیل کی سزا کاٹنی ہوگی۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق فرانس میں ایک شخص ہر سال اوسطاً 20 سے 30کلو خوارک کوڑا دان میں پھینک دیتا ہے جس کی مشترکہ قومی لاگت لگ بھگ 20 ارب یورو سے زیادہ ہے۔

نئے قوانین کے تحت اسکولوں اور کاروباری اداروں میں خوراک کے فضلے پر ایک تعلیمی پروگرام بھی متعارف کرایا جائے گا جبکہ فروری سے فرانس میں تازہ کھانوں پر سے استعمال کی تاریخ کو بھی ہٹا لیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG