رسائی کے لنکس

logo-print

پیرس: رہائی پانے والےصحافیوں کا خیر مقدم


’ولا کوبے‘ نامی ایک فوجی اڈے پر، آمد کے موقع پر اُن کا خیرمقدم کرنے والوں میں اُن کے اہل خانہ اور ساتھیوں کے ساتھ ساتھ, فرانس کے صدر فوانسواں ہولاں بھی شامل تھے

شام سے رہا ہونے والے فرانس کے چار صحافی اپنے وطن واپس پہنچے۔ اُنھیں دس ماہ قبل شام میں یرغمال بنایا گیا تھا۔

پیرس سے دور ’ولا کوبے‘ نامی ایک فوجی اڈے پر آمد کے موقع پر اُن کا خیرمقدم کرنے والوں میں اُن کے اہل خانہ اور ساتھیوں کے ساتھ ساتھ, فرانس کے صدر فوانسواں ہولاں بھی شامل تھے۔

ترکی کی ’دوگن نیوز ایجنسی‘ کی خبر کے مطابق، سب سے پہلے ترکی کی فوج نے اغوا ہونے والے اِن چار صحافیوں-- دیدے فرانسواں، ایڈورڈ الیس، نکولس ہائین اور پیرے تورس-- کا کھوج لگایا تھا۔ وہ شام کی سرحد کے قریب سے ملے تھے، اور اُن کی آنکھوں اور ہاتھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔

وہ رپورٹنگ کی غرض سے شام گئے تھے، جب گذشتہ سال جون میں دو مختلف واقعات کے دوران اُنھیں یرغمال بنایا گیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ چاروں صحت مند ہیں، باوجود یہ کہ اغوا کے دوران اُنھیں مشکل حالات جھیلنا پڑے۔

’کمیٹی ٹو پراٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے کہا ہے کہ صحافیوں کے لیے شام دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔
XS
SM
MD
LG