رسائی کے لنکس

logo-print

غزا: ماہی گیر کے جال میں، یونانی دیوتا کا مجسمہ!


عہدے داروں نے اس نادر مجسمے کو سرکاری تحویل میں دینے کا حکم دیا ہے، جسے غزا کی پٹی میں دریافت ہونے والا ’انسانی ہنر اور صناعی کا ایک نادر نمونہ‘ قرار دیا جا رہا ہے

گرمیوں کے گذشتہ موسم میں، غزا کے ساحل پر ایک مچھیرے کے جال میں ایک کوئی وزنی چیز پھنسی۔ پہلے تو وہ ڈرا کہ شاید کوئی مردہ ہے۔ لیکن، جب شکار کو سطحِ زمین پر لایا گیا تو پتا چلا کہ یہ دھات کا ایک مجسمہ ہے، جو دراصل سورج کے یونانی دیوتا، 'اپالو' کا ہے۔

'سی این این' کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ انسانی جسامت سے مشابہ نہایت ہی نادر و قیمتی تانبے کا مجسمہ تھا۔

اور جواد غُریب کی دریافت اُس کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ اس پر تنازع بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے، ایسے میں جب حکام نے معاملے کی چھان بین کے احکامات صادر کردیے ہیں۔

'سی این اینٗ کو واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے، جواد نے کہا کہ وہ غزا کی ساحل کے قریب مچھلی کے شکار پر تھا، تاکہ اپنے خاندان کے لیے معمول کا روزی روٹی کا بندوبست کیا جاسکے، 'کہ اچانک میری نظر پانی کے اندر کسی مشتبہ شے پر پڑی۔ ایسا لگا کہ سمندر میں ڈوبی ہوئی کوئی لاش ہے'۔

میں نے چاہا کہ معلوم کروں یہ کیا چیز ہے؟ میں نے پانی میں ڈبکی لگائی۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ میں گیا اور احباب اور اہل خانہ کے ارکان کو وہاں لے آیا۔ اور چار گھنٹوں کی جستجو کے بعد، ہم اِسے پانی سے باہر لانے میں کامیاب ہوئے۔ یوں لگا کہ کوئی خزانہ ہے جو ہمارے ہاتھ لگا تھا۔

جواد نے کہا کہ وہ اس مجمسے کو گھر تو لائے، لیکن بہت سے مسائل اٹھ کھڑے ہوئے۔
پھر ایک دِن، یعنی گذشتہ اگست 2013ء میں، ہم نے 'نیلام' کے لیے اِسے 'اِی بے' کے سائٹ پر ڈالا، جہاں اس کی بولی تقریباٍ پانچ لاکھ ڈالر سے شروع ہوئی۔

رپورٹ میں، جواد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد، غزا میں سیاحت اور نادر اشیا کی وزارت اور وزارت داخلہ نے شک و شبہ کا اظہار کیا، جہاں کالعدم فلسطینی شدت پسند گروہ، حماس کی حکمرانی ہے۔

غزا کے عہدے داروں نے حکم دیا کہ اس نادر مجسمے کو سرکاری تحویل میں دیا جائے، جو غزا میں دریافت ہونے والا انسانی ہنر اور صناعی کا ایک تاریخی نمونہ ہے۔

نادر اشیا سے متعلق ادارے اور وزارت داخلہ نے تفتیش کا حکم دیا، جنھیں شک تھا کہ اس قیمتی فنون ِلطیفہ کے نمونے کو غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

غزا سے نادر اشیا کے ادارے اور سیاحت کی وزارت کے سربراہ، احمد البرج نے سی این این کو بتایا کہ فلسطینی اور غزا کے علاقے سے دریافت ہونے والی کسی چیز کو فروخت کرنا خلافِ قانون ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ جب تک وزارت داخلہ کی چھان بین مکمل نہیں ہوجاتی، مجسمہ نادر اشیا کے ادارے کی ملکیت رہے گا۔

اُنھوں نے بتایا کہ نادر اشیا کا ادارہ ایک منصوبہ ترتیب دے رہا ہے جس سے اس مجسمے کو باری باری مختلف عجائب خانوں میں رکھا جائے گا، جس کا آغاز پیرس میں واقع عجائب خانے سے کیا جائے گا۔

ادھر، جنیوا میں سوٹزرلینڈ کے عجائب خانوں کے اہل کار پہلے ہی اس مجسمے کی مرمت اور حفاظت کے کام میں مدد دینے کی پیش کش کرچکے ہیں؛ جس کے بعد اسے غزا میں ہی نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔

اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے، جواد اور اُن کے خاندان کی خوشی کافور ہوتی جارہی ہے، کہ اُنھیں اب یہ ممکن نہیں لگتا کہ اُن کے مالی حالات بدلیں گے۔
XS
SM
MD
LG