رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کے خلاف عالمی اتحاد کا اجلاس، مؤثر کارروائی کا عزم


اجلاس یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ دنیا کو درپیش خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے عزم کا اعادہ کریں، اور اتحاد کی طرف سے پُر تشدد انتہا پسندی کے خلاف جاری کارروائی کو ’مضبوط، تیز تر اور یکجا کرنے‘ کی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق غور و خوض کریں

داعش کی پُر تشدد انتہا پسندی کے انسداد کی کوششوں میں شامل 60 ملکوں کے عالمی اتحاد کے نمائندوں کا بدھ کو واشنگٹن میں ابتدائی اجلاس شروع ہوا، جس کی صدارت امریکی وزیر خارجہ جان کیری کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں، بین الاقوامی اتحاد سے تعلق رکھنے والے ملکوں کے واشنگٹن میں فرائض انجام دینے والے 35 سے زیادہ سفراٴ بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

اِس موقعے پر اپنے کلمات میں، جان کیری نے شرکاٴ کا خیرمقدم کیا۔

اجلاس کی یہ ابتدائی نشست اتحادی ساجھے داروں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ دنیا کو درپیش خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے عزم کا اعادہ کریں، اور اتحاد کی طرف سے پُر تشدد انتہا پسندی کے خلاف جاری کارروائی کو مضبوط، تیز تر اور یکجا کرنے کی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق غور و خوض کریں۔

تین نومبر، 2014ء کے بعد، داعش کے خلاف عالمی اجلاس کا یہ دوسرا اجلاس ہے، جس میں سفراٴ اور نمائندگان شریک ہیں۔

دولت اسلامیہ کے خلاف عالمی اتحاد کے خصوصی صدارتی ایلچی، جان ایلن اور دیگر اعلیٰ امریکی اہل کاروں نے، اجلاس کے شرکاٴ کو داعش کے خلاف جاری کارروائی سے آگاہ کیا، اور پیش رفت کی نشاندہی کی۔

اس حکمت عملی میں خطے کے فوجی پارٹنرز کی حمایت کرنا، غیرملکی لڑاکوں کی آمد کو روکنا، داعش کی مالی وسائل تک رسائی ختم کرنا، فوری نوعیت کی انسانی ضروریات کی فراہمی، اور داعش کی پیغام رسانی کے سلسلے کو بند کرنا شامل ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے سلسلے میں، تقریباً ہر ایک ملک اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG