رسائی کے لنکس

logo-print

اب خون میں شکر کی سطح ماپے گا گُوگل کا ’کانٹیکٹ لینز‘


گوگل کی جانب سے ایک بلاگ میں واضح کیا گیا کہ جو کانٹیکٹ لینز گُوگل تیار کر رہا ہے اس سے ہر ایک سیکنڈ میں جسم میں شکر کی مقدار کو جانچنا ممکن ہو سکے گا۔

انٹرنیٹ کے معروف سرچ انجن گُوگل کا کہنا ہے کہ وہ آج کل ایک ایسے کانٹیکٹ لینز کی تیاری میں ہے جس سے شوگر کے مریضوں کو جسم میں شکر کی سطح کم یا زیادہ ہونے پر ’الرٹ‘ مل سکیں گے۔

دنیا بھر میں ذیابیطیس میں مبتلا افراد کو اپنے خون میں شکر کی سطح نوٹ کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر جسم میں خون کی سطح کو مانیٹر نہ کیا جائے تو مستقبل میں ذیابیطس کے مریض کو آنکھوں، گردوں اور دل کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ذیابیطس کے زیادہ تر مریض شوگر کے ٹیسٹ کے لیے روایتی طریقہ استعمال کرتے ہیں جس میں خون کے قطرے سے مشین کی مدد سے جسم میں شوگر کی مقدار کو جانچا جا سکتا ہے۔

گوگل کی جانب سے ایک بلاگ میں واضح کیا گیا کہ جو کانٹیکٹ لینز گُوگل تیار کر رہا ہے اس سے ہر ایک سیکنڈ میں جسم میں شکر کی مقدار کو جانچنا ممکن ہو سکے گا۔

گُوگل کے مطابق گُوگل نے اس حوالے سے بہت سے کلینیکل ٹیسٹ مکمل کر لیے ہیں۔ تحقیق دان اس حوالے سے ایسی ایپس بھی بنا رہے ہیں جس سے خون میں شکر کی مقدار مریض اور ڈاکٹروں کو آن لائن دستیاب ہو سکے گی۔

گُوگل کا کہنا ہے کہ ابھی اس حوالے سے ٹیسٹ جاری ہیں اور گُوگل کو امید ہے کہ جلد ہی ذیابیطس کے مریض اپنے مرض کو زیادہ بہتر طریقے سے مانیٹر کر سکیں گے۔
XS
SM
MD
LG