رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: ’بیک گراؤنڈ چیک‘ کمپنی کے خلاف چارہ جوئی


’بیک گراؤنڈ چیک‘ میں ’یو ایس آئی ایس‘ پیش پیش ہے، جسے گذشتہ سال حکومت کی طرف سے 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی ادائگیاں کی گئی تھیں

امریکی محکمہٴ انصاف اُس کمپنی کے خلاف دائر کی گئی قانونی چارہ جوئی میں شامل ہو گیا ہے، جس نے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے خفیہ راز کا انکشاف کرنے والے، ایڈورڈ سنوڈن کے ’بیک گراؤنڈ‘ کی چھان بین کی تھی۔

اس قانونی چارہ جوئی کا تعلق اُس کمپنی کی طرف سے سنوڈن کے معاملے سے متعلق نظرثانی سے نہیں ہے۔ محکمہٴانصاف کی طرف سے الزام لگایا گیا ہے کہ امریکہ کا نجی چھان بین کی خدمات انجام دینے والا یہ ادارہ وائٹ ہاؤس کے عملے کی دیکھ بھال کے سلسلے میں کی جانے والی بیک گراؤنڈ تفتیش کی معیاری چھان بین میں ناکام رہ چکا ہے۔

دراصل یہ مقدمہ ’یونائٹڈ اسٹیٹس انویسٹی گیشن سروسز (یو ایس آئی ایس)‘ کے ایک سابق ملازم نے دو برس سے زیادہ عرصہ قبل الاباما میں دائر کیا تھا۔

’بیک گراؤنڈ چیک‘ میں ’یو ایس آئی ایس‘ پیش پیش ہے، جسے گذشتہ سال حکومت کی طرف سے 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی ادائگیاں کی گئی تھیں۔

اِسی ہی کمپنی نے ’ایرون الیکسز‘ کے بارے میں چھان بین کی تھی، جو ٹیکنالوجی کے اہل کار تھے، جنھوں نے گذشتہ ماہ واشنگٹن میں بحریہ کے یارڈ میں ہونے والے واقعے میں 12 افراد کو ہلاک کیا تھا۔

امریکی محکمہٴانصاف نے الزام لگایا ہے کہ 2008ء سے اس فرم نے ایسا سافٹ ویئر استعمال کیا جو چھان بین کے عمل کو ازخود جاری کردیا کرتا تھا، جب کہ یہ رپورٹیں ابھی مکمل بھی نہیں ہو پاتی تھیں، جن کا مقصد صرف کمائی کے حصول کے اہداف کو یقینی بنانا تھا۔

فرم نے اِس روایت کو چھپائے رکھا، جسے ’ڈمپنگ‘ کہا جاتا ہے، اور سر انجام دیے گئے کام کے بارے میں حکومت سے غلط بیانی سے کام لیتی رہی۔
XS
SM
MD
LG