رسائی کے لنکس

logo-print

یونان کا ترکی کےساتھ سرحد پر باڑ لگانے پرغور


یونان کے وزیر کرسٹوس پاپوٹسس نے کہا ہے کہ ساڑھے بارہ کلومیٹر طویل باڑ سرحد کے اس حصے پر لگائی جائے گی جہاں دریائے ایوروس نہیں بہتا۔

یونانی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لئے ترکی کے ساتھ اپنی سرحد کے ایک حصے پر باڑ لگانے پر غور کر رہا ہے۔

یونان کے وزیر کرسٹوس پاپوٹسس نے کہا ہے کہ ساڑھے بارہ کلومیٹر طویل باڑ سرحد کے اس حصے پر لگائی جائے گی جہاں دریائے ایوروس نہیں بہتا۔ دریائے ایوروس جسے ترکی میں دریائے میرک کہا جاتا ہے دونوں ملکوں کے درمیان قدرتی سرحد کے طور پر کام کرتا ہے۔

یونانی میڈیا میں چھپنے والے کرسٹوس کے بیان کے مطابق باڑ لگانا اس پروگرام کا حصہ ہو گا جس کے تحت یونان ترکی کے ساتھ ایک سو پچاس کلومیٹر سرحد کی نگرانی بہتر بنانا چاہتا ہے۔ یونان میں اس منصوبے پر ابھی بحث جاری ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا دونوں ملکوں کے درمیان یہ سرحد غیرملکی تارکین وطن کے لئے یورپی یونین میں داخل ہونے کا سب سے مصروف راستہ ہے۔ یورپی یونین کی وارسا میں موجود ایک ایجنسی Frontexکا کہنا ہے کہ سرحد پار کرکے یونان میں داخل ہونے والے تارکین وطن میں زیادہ تر کا تعلق جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG