رسائی کے لنکس

logo-print

ہیٹی: امداد کے منتظر لوگوں کے مصائب بڑھتے جا رہے ہیں


ہیٹی کے اُن لوگوں میں مایوسی اور بے چینی بڑھتی جا رہی ہے جو اُس ہول ناک زلزلے کے بعد خوراک اور امدادی سامان کا انتظار کر رہے ہیں، جس میں اندازاً 50 ہزار تک لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور دارالحکومت پورٹ او پرنس ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گیا ہے۔

اگرچہ بین اقوامی فوجوں اور سامانِ خوراک اور ادویات سے لدے طیارے ہیٹی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، لیکن امدادی ایجنسیاں ملبے کے بغیر صاف سڑکوں، ٹیلی فون اور ایک حد تک سکیورٹی کی عدم موجودگی میں ابھی تک امدادی سامان کو تقسیم کرنے کا کوئى منظم طریقہ دریافت نہیں کرسکی ہیں۔

کئى طیارے جو پورٹ آ پرنس پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہوائی اڈے پر طیاروں کے ہجوم کے باعث اوپر فضا میں چکّر لگا تے ہوئے راستا ملتے ہی اترنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس کارل وِنسن جمعے کے روز ہی ساحل کے قریب لنگر انداز ہو گیا ہے۔ یہ طیارہ بردار جہاز امدادی ہیلی کاپٹروں کے لیے سمندر پر ہوائى اڈے کی خدمات انجام دے گا۔

اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ 7.0 شدّت کے زلزلے کے نتیجے میں ہیٹی کے تقریباً تین لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔زندہ بچ جانے والے، جن میں بہت سے لوگ خود بھی زخمی ہیں اور علاج سے محروم ہیں، اپنے ہاتھوں سے ملبے کو کھود کھود کر اپنے عزیزوں اور پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے جمعے کے روز ٹیلی فون پر ہیٹی کے صدر رینے پریوال سے بات کی ہے۔ مسٹر اوباما نے ہیٹی کی فوری بحالی اور طویل المعیاد تعمیرِ نو کی کوششوں بھر مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

جمعے کے روز وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اُسے امدادی سامان اور انخلا کی پروازوں کے لیے ہوانا سے کیوبا کی فضائى حدود کو استعمال کرنے ایک ایسی اجازت مل گئى ہے جس کی پہلے مثال نہیں ملتی۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی طیاروں کو، کیوبا کے جنوب مشرقی سرے پر واقع خلیج گوانتانامو میں امریکی بحریہ کے اڈے کو جاتے ہوئے اور وہاں سے آتے ہوئے کیوبا کی فضائى حدود کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔

امریکہ ہیٹی کی مدد کے لیے مزید فوج اور بحری جہاز روانہ کر رہا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صورتِ حال” کچھ ٹھیک ہی ہے “۔ اور یہ کہ امریکی فوج اپنی بیشتر توجہ ہیٹی کے لوگوں کی فوری ضرورتوں پر مرکوز کرے گی تاکہ صورتِ حال مزید بگڑنے نہ پائے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے کہا ہے کہ ہیٹی لوگوں کی ضرورتیں بہت زیادہ اور فوری نوعیت کی ہیں۔ انہوں نے جمعے کے روز کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی امن فوج نے پورٹ آ پرنس میں امن و امان قائم رکھنے کی ذمّے داری سنبھال لی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ عنقریب ہیٹی کا دورہ کریں گے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری نے 26 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔عالمی ادارے نے سامانِ خوراک، پینے کے پانی، ادویات اور خیموں کی مانند فوری اہمیت کی اشیا کے لیے مزید 55 کروڑ ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے۔

اسی دوران ہیٹی کے جلا وطن سابق صدر ژاں برتراں آرِستید نے کہا ہے کہ وہ اپنے وطن واپس جانے اور ملک کی تعمیرِ نو مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔وہ 2004ء سے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں۔

زلزلے نے پورٹ آ پرنس کو بُری تباہ کر دیا ہے اور شہر کا سب سے بڑا ہسپتال منہدم ہو گیا ہے۔کیوبا کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم پہلے ہی ہیٹی میں کام کر رہی ہے۔ کیوبا کے یہ ڈاکٹر زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں اور ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نامی فلاحی تنظیم نے خیموں میں اپنے طبّی مرکز قائم کر دیے ہیں۔

قومی محل اور ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کے مِشن کے صدر دفاتر کے عمارتیں بھی زلزلے میں زمیں بوس ہو گئی ہیں۔اقوامِ متحدہ نے ہیٹی میں اپنے عملے کے 36 ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔لیکن عالمی ادارے کے مشن کے سربراہ ہَیڈی انّابی سمیت عملے کے کم سے کم 150 ارکان بدستور لاپتا ہیں۔

ہیٹی مغربی نصف کرہٴ ارض کا سب سے غریب ملک ہے۔ اور برسوں تک سیاسی تشدّد، لاقانونیت، بدعنوانیوں اور قدرتی آفات کے باعث وہاں ترقیاتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG