رسائی کے لنکس

logo-print

ہیٹی میں زلزلے کے بعد بچوں کے مسائل میں اضافہ


عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ہیٹی میں زلزلے کے بعد کتنے مزید بچے سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہوں گے۔ان بچوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی امداد کے تحت چلنے والے یتیم خانوں میں نہیں رہنا چاہتے۔ انہیں پاپا کے ساتھ رہتے ہوئے تحفظ اور آزادی کا احساس ہوتا ہے۔
ہیٹی جہاں اس سال جنوری میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کا کام جاری ہے۔ بچے ہیٹی کی کل آبادی کا45 فیصد بنتے ہیں ، جو زلزلے سے بطور خاص متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں سے محروم ہوچکے ہیں اور ان کے پاس رہنے اورسرچھپانے کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ ہیٹی میں ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے جن کا ٹھکانہ سڑکیں اور فٹ پاتھ ہیں۔

پانچ برس قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں میں آنے والے زلزلے نے ہزاروں افراد کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ کشمیر کی وادی میں کوئی عمارت سلامت نہیں بچی تھی۔ ہزاروں کشمیری بچے اپنے والدین سے محروم ہوگئے ، جن کے پاس سر چھپانے کو چھت نہ رہی اور نہ ہی پڑھنے کے لیے اسکولز۔ اور پھر حکومت اور امدادی اداروں نے متاثرہ لوگوں کے لیے خیمہ بستیاں اور بچوں کے لیے خیمہ سکول قائم کیے ۔ اگرچہ وہاں بحالی کا زیادہ تر کام ہوچکاہے ،تاہم اب بھی کئی خیمہ سکول کام کررہے ہیں۔
پانچ برس بعد کچھ ایسی ہی قیامت ہیٹی پرٹوٹی جب اس سرزمین کو ایک خوفناک زلزلے نے اپنی لپیٹ میں لیا۔

ہر روز تقریبا تیس بچے 32 سالہ جمی بون ہوم کے گھر جمع ہوتے ہیں۔ جمی خود بھی سڑک پر اپنا بچپن بتا چکے ہیں۔ وہ ان بچوں کو روزانہ ایک وقت کا کھانا مہیا کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ میرے لیے کسی مشن سے کم نہیں۔ مجھے لگتا ہے جیسے خدا میرے کان میں سرگوشی کرکے مجھے اس کام کی تلقین کرتا ہو۔
اقوام ِ متحدہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادو شمار کے مطابق ہیٹی میں جنوری کے زلزلے سے قبل پورٹ او پرنس کی سڑکوں پر 10 ہزار بچے سڑکوں پر زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔ ان میں سے زیادہ تر بچے کھانے اور پیسوں کی بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔

جوزف کانسٹینٹ ہیٹی میں سڑکوں پر زندگی بسر کرنے والے بچوں کے ساتھ سالہا سال سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بچوں کی زندگی غم کے کسی فسانے سے کم نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ بچے یا تو سڑکوں پر ہی مرکھپ جاتے ہیں کیونکہ ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یا پھر انہیں انسانی ا سمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور بعض اوقات یہ جرائم کی دنیا کا بھی حصہ بن جاتے ہیں۔

جمی بون ہوم کوان بچوں کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہے۔ جب وہ سڑک پر زندگی گزارنے پر مجبور تھے تو انہیں سات مرتبہ جیل جانا پڑا تھا۔ زیادہ تر ان جرائم کی پاداش میں جو انہوں نے کبھی کیے ہی نہیں تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی سڑکوں پر زندگی گزارنے والے بچوں کے لیے وقف کر دی۔
وہ کہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں اچھے اور برے لمحات آتے رہتے ہیں۔ مگر آپ کی حقوق کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ ہو، یہ ایک بہت برا احساس ہے۔ میں نے اسی لیے اپنے آپ کو ان بچوں کے لیے وقف کردیا۔
بون ہوم نے ان بچوں کو کھانا مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ سکول جانے کی ایک لازمی شرط بھی لگا رکھی ہے۔ پڑوس نے اس مقصد کے لیے انہیں ایک چھوٹی سی عمارت فراہم کر رکھی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہاں پہلی چیز بچوں کو ان کا نام لکھنا سکھایا جاتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں شرح ِ خواندگی پچاس فیصد ہو، یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں۔
سکول کے بعد یہ بچے بھیک مانگتے ہیں۔ وہ اس میں سے کچھ حصہ بون ہوم کو بھی دیتے ہیں تاکہ ان کے لیے کھانا خریدا جا سکے۔

وہ ان بچوں کو جو مدد فراہم کرتے ہیں وہ ضائع نہیں جاتی۔ ڈیوڈ کیمل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نانی کے ساتھ ان کی وفات تک ساتھ رہا۔ پھر اسے زبردستی سڑکوں پر زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا گیا۔ انہیں گولیاں بھی لگیں اور ایک مرتبہ ایک گاڑی نے بھی ٹکر ماری۔ وہ بون ہوم کو پاپا کہتے ہیں، اس کے لیے وہی سب کچھ ہیں۔ کیمل کا کہنا ہے کہ وہ ہمارے لیے بہت کچھ کرتے ہیں۔ وہ ہماری ضروریات پوری کرتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ ہم پر غصہ بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہم سے پیار نہیں کرتے۔
عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ہیٹی میں زلزلے کے بعد کتنے مزید بچے سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہوں گے۔ان بچوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی امداد کے تحت چلنے والے یتیم خانوں میں نہیں رہنا چاہتے۔ انہیں پاپا کے ساتھ رہتے ہوئے تحفظ اور آزادی کا احساس ہوتا ہے۔


XS
SM
MD
LG