رسائی کے لنکس

logo-print

بیویوں کی ہاں میں ہاں ملانے والے شوہروں میں افسردگی کا رجحان: تحقیق


محقیقین سائنسی مطالعے میں اس بات کا جائزہ لینا چاہتے تھےکہ ، بیویوں کی رائے سے اتفاق کرتے رہنے کی عادت کیا شادی شدہ زندگی میں بہتری لا سکتی ہے؟

محققین کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیویوں کے مطالبات پرسرتسلیم خم کر لینے والے شوہروں کی زندگی میں کافی سکون پایا جاتا ہو گا لیکن ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شوہروں کا بیویوں کی ہاں میں ہاں ملانے کا رویہ انھیں اندر سے دکھی بنا دیتا ہے۔

نیوزی لینڈ سے وابستہ محققین سائنسی مطالعے میں اس بات کا جائزہ لینا چاہتے تھے کہ بیویوں کی رائے سے اتفاق کرتے رہنے کی عادت کیا شادی شدہ زندگی میں بہتری لا سکتی ہے؟

آکلینڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محققین کی جانب سے تجربے میں شامل شادی شدہ مردوں کے گروپ سے کہا گیا کہ دوران تجربہ وہ اپنی بیویوں کی ہر رائے اورمطالبے سے اتفاق کریں اگرچہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بیوی کی رائے صحیح نہیں ہے پھر بھی وہ اپنی بیوی سے شکایت یا بحث نا کریں۔

"برٹش میڈیکل جرنل" میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے اندازہ لگایا کہ صرف 12 روز کے تجربے کے دوران شوہروں کے معیار زندگی میں خوشی کا گراف 10 میں سے 7 کے مقابلے میں تیزی سے نیچے گرا اور 10 میں سے3 کی کمتر سطح تک پہنچ گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس تجربے کے منفی اثرات نے شوہروں کو بری طرح متاثر کیا جس کی وجہ سے تحقیق کو بیچ میں ہی ترک کرنا پڑا جبکہ یہ بات بھی قابل غور تھی کہ بیویوں کی خوشی کے گراف میں صرف پوائنٹ 5 کا اضافہ ہوا جو 10 میں سے 8.5 کی سطح تک پہنچ گئی۔

تحقیق میں شریک شوہروں کا کہنا تھا کہ اگرچہ بیویوں کے مطالبات پورے کئے گئے لیکن ساتھ ہی ان کے ہرکام پر بیویوں کی جانب سے تنقید بڑھتی جارہی تھی۔

محققین نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک فریق کی ضرورت سے زیادہ خود مختاری شادی شدہ زندگی پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

''ہمیں یقین ہے کہ شادی شدہ جوڑوں میں کسی ایک فریق کا ہر بات پر اتفاق کرنا اسے افسردہ بنا سکتا ہے۔"

مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ صحیح چیز پر اتفاق کرنا آپ کو خوش رکھتا ہے لیکن کسی ایسی بات پر اتفاق کرنا جس پر اختلاف ہو آپ کو دکھی بنا دیتا ہے۔

لہذا ماہرین نے تجویز کیا کہ ''خوش ہونے کے مقابلے میں صحیح ہونا زیادہ بہتر ہے۔"

تاہم محققین نے آخر میں کہا کہ کیا شادی شدہ جوڑوں میں ہمیشہ مرد ہی صحیح ہوتا ہے؟ اس بات کی وضاحت کے لیے مزید تحقیقی مطالعے کی ضرورت ہے۔
XS
SM
MD
LG