رسائی کے لنکس

logo-print

حقانی استعفی: میمو گیٹ اسکینڈل کا ڈراپ سین یا نقطہ آغاز؟


میمو گیٹ سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد سے ابھی تک اگرچہ کئی ایک سوالات جواب طلب ہیں مگر اس قضیے کی حساسیت میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی ایک سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ثابت ہو جاتا ہے کہ میمو کے پیچھے پاکستان کے اعلی عہدیداروں کا ہاتھ ہے تو بات آئین کے آرٹیکل چھ کے اطلاق تک جا سکتی ہے جس کے تحت ذمہ داران کو ملک کے ساتھ غداری کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ منگل کی شام پاکستان کے واشنگٹن میں امریکی سفیر اور اس سکینڈل کے ایک مبیبنہ اہم کردار حسین حقانی نے اسلام آباد میں اپنا استعفی یہ کہتے ہوئے پیش کر دیا کہ وہ اپنی ذات کو ملک کے اندر جمہوریت کے لیے نقصان دہ نہیں بننے دیں گے اور جب تک معاملے کی تحقیقات نہیں ہو جاتیں، وہ پاکستان میں رہیں گے۔ انہوں نے یہ پیغام سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دیا اور ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں یک بار پھر دعوی کیا کہ امریکہ کے سابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک ملن کو بھجوائے گئے خط کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہٰں ہے۔

سفیر حسین حقانی، صدر اصف علی زرداری کے قریبی ساتھی خیال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے استعقی سے قبل وزیراعظم ہاوس میں اسی مبنیہ خط کے حوالے ہونے والے اس اعلی سطحی اجلاس میں اطلاعات کے مطابق وضاحت پیش کی جس میں پاکستان کی اعلی عسکری اور سیاسی قیادت شریک تھی۔

حسین حقانی کی جانب سے ازخود مستعفی ہونے کا دعوی بھی اس وقت ابہام کا شکار ہوگیا جب اس اجلاس کے کچھ ہی دیر بعد زیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے آفس سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیاکہ ان سے استعفی لیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کا حکم دیے دیا گیا ہے۔ ان حالات میں ان کے استعقی کے بارے میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حقانی صاحب کی وضاحتوں میں استدلال اور وزن ہوتا تو استعفی کی نوبت نہ آتی۔

حسین حقانی کے استعفی کے بعد یہ معاملہ پاکستان کے سیاسی، صحافتی اور سفارتی حلقوں میں تو زیربحث ہے ہی، سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے سربراہ اور سابق سیکریٹری خارجہ تنویر احمد خان اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر کہتے ہیں کہ اگرچہ مائیک ملن کو لکھے گئے میمو کے حوالے سے تحقیات کا عمل شروع ہو گیا ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے عسکری اور سویلین اداروں کے درمیان اعلی سطح کی اعتماد سازی کی جانب تیزی سے آگے بڑھا جائے۔ ایک ایسی فوج جسے دشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ مستقبل میں اپنے خلاف سازشوں یا ملک کے اندر اور باہر بدنام کیے جانے کی کوششوں کے جواب میں کم ہی صبروتحمل کا مظاہرہ کر سکے گی۔ صدر آصف علی زرداری کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنے قریبی ترین حلقے میں موجود لوگوں میں ردوبدل کریں۔

سیاسی تجزیہ کار اور سماجی کارکن ظفراللہ خان نے راقم کے ساتھ فیس بک پر گفتگو میں حسین حقانی کے استعفی پر تبصرہ کچھ یوں کیا:

" صدر زرداری کی پہلی ڈیفینس لائن نہی رہی۔ سوال یہ ہے کہ اگر بلیک بیری کے ذریعے تحقیات کی اتنی ہی جائزیت ہے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کا بلیک بیری کہاں ہے? میری تجویز ہو گی کہ منصور اعجاز کو واشنگٹن میں پاکستان کا آئندہ سفیر مقرر کر دیا جائے۔ وہ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کا بہتر خیال رکھتے ہیں۔""

ظفراللہ خان یہ بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ پی این ایس مہران اور کارگل کے واقعات کا کیا ہوا، کیا آئین کے آرٹیکل چھ کا اطلاق صرف سولینز پر ہوتا ہے۔

فرحت عباس شاہ، پاکستان کے معروف شاعر اور مزاح نگار ہیں۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ آن لائن گفتگو وہ کہتے ہیں کہ فوج ہو، صدر ہوں، سفیر ہوں یا منصور اعجاز جیسا ایک عام شہری یا مڈل مین ہو، سب کو چاہیےکہ وہ جو بھی قدم اٹھائیں، وہ مہذبانہ ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر زرداری کی حکومت کو خود کو اس پیچدہ معاملے سے نکالنے کے لیے اس (حسین حقانی سے استعفی لینے) سے بہتر کوئی اور راستہ نہیں ملا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر زرداری اگرچہ اپنی پارٹی میں بھی غیر مقبول ہیں لیکن ان کے لیے اس مسئلے کو حل کرنا، میرے خیال میں، کوئی بڑا چیلنج نہ ہو گا۔ وہ پاکستان اور امریکہ دونوں حکومتوں کے سفارتی سطح پر اختلافات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور صورتحال سے بچ نکلیں گے۔

خالد جمیل اسلام آباد میں سینئر صحافی اور ایک نجی ٹیلی ویژن کے ڈایرئکٹر نیوز ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ معاملہ بہت حساس ہو گیا ہے۔ حکومت کے پاس خاطرخواہ ثبوت تھے جن کی بنیاد پر حسین حقانی سے استعفی طلب کیا گیا۔ تاہم اب آئندہ کا انحصار اس بات پر ہے کہ کس نوعیت کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔ اگر حکومت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے معاملے کی تحقیقات کے لیے جیوڈشل کمشن بنانے کا کہتی ہے تو اس سے ہی پاکستان کے عوام اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی تشفی ہو گی دوسری صورت میں حکومت کو سیاسی محاذ پر سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خالد جمیل کہتے ہیں کہ حسین حقانی کے استعفی پر تجزیہ کاروں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے، بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ حقانی نے صدر زرداری کی مرضی کے بغیر انتہائی خطرناک قدم اٹھایا۔ ان کے خیال میں مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو اس قضیے سے سیاسی فائدہ حاصل ہو گا۔

رحمت علی رازی، پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میمو گیٹ سکینڈل ایسے میں بڑی سیاسی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے جب حزب اختلاف کی مرکزی جماعت پہلے ہی گو زرداری کے مطالبے کے ساتھ عوام کو موبلائز کر رہی ہے۔ معاملات حکومت کے کنٹرول سے نکلتے اور فوج کے ہاتھ میں جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اب مزید مطالبات منوائیں گے جس میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل حکومت کے قیام کا مطالبہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ جبکہ نواز لیگ اور ان کے اتحادیوں کا پارلیمنٹ سے استعفوں پر غور نئے انتخابات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنماوں قمر زمان کائرہ اور شوکت بسرا نے نجی ٹیلی ویژنز پر اپنے انٹرویوز میں کہا ہے کہ معاملہ قومی مفاد کا ہے۔ اس پر تحقیقات کا انتظار کرنا چاہیے۔ انہوں نے سیاسی مخالفین سے کہا ہے کہ وہ اس حساس معاملے پر سیاست نہ چمکائیں۔

مبصرین کے بقول میمو گیٹ سکینڈل میں ایمبیسیڈر حسین حقانی کا مستعفی ہونا تقریبا تین ہفتوں سے جاری قضیے کا ڈراپ سین نہیں بلکہ نقطہ آغاز ہے ۔ اور مستقبل قریب میں ملکی سیاست اور اقتدار کے ایوانوں پر اس سکینڈل اور حقانی صاحب کے استعفی کے اثرات نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکیں گے۔۔

XS
SM
MD
LG