رسائی کے لنکس

logo-print

نائجیریا میں دیہات پر حملے، 100 افراد ہلاک


انسانی حقوق کی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' کے مطابق علاقے میں مذہبی بنیادوں پر جاری جھڑپوں میں 2010ء سےاب تک تین ہزار افراد مارے جاچکے ہیں۔

نائجیریا کی وسطی ریاست میں مسلح افراد کے تین مختلف دیہات پر حملوں اور قتل و غارت کے نتیجے میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق تشدد کا یہ واقعات کدونا ریاست میں جمعے اور ہفتے کو پیش آئے تھے جہاں زمین پر قبضے اور مذہبی اور نسلی اختلاف کی بنیاد پر قتل و غارت معمول کی بات ہے۔

پولیس حکام کے مطابق حملوں میں فلانی قبیلے کے افراد ملوث ہیں جنہوں نے اپنے مخالف قبیلے کے تین دیہات پر حملہ کیا۔ حملہ آور بندوقوں اور برچھیوں سے مسلح تھے جنہوں نے قتل و غارت کے بعد کئی گھروں کو ان کے مکینوں سمیت آگ لگادی۔

خیال رہے کہ کدونا نائجیریا کی وسطی ریاست ہے جو عیسائی اکثریت پر مشتمل ملک کے جنوب اور مسلمان اکثریت پر مشتمل شمالی علاقے کو علیحدہ کرتی ہے۔

اس ریاست میں مویشی چرانے والے فلانی نامی مسلمان قبیلے اور کھیتی باڑی سے منسلک عیسائی قبائل کے درمیان دشمنی کی تاریخ خاصی پرانی ہے اور دونوں گروہ گھاس کے میدانوں اور پانی کے ذخائر پر قبضے جیسے معاملات پر بھی ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' کے مطابق علاقے میں مذہبی بنیادوں پر جاری جھڑپوں میں 2010ء سےاب تک تین ہزار افراد مارے جاچکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں نائجیریا کی حکومت پر علاقے میں جاری امن و امان کی مخدوش صورتِ حال کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی عائد کرتی ہیں جس کی نائجیرین حکومت تردید کرتی ہے۔
XS
SM
MD
LG