رسائی کے لنکس

logo-print

سیاست کے رابن ہڈ جیل میں سیکھ رہے ہیں اردو


آنند موہن سنگھ کو بہار کی سیاست میں رابن ہڈ کہا جاتا ہے، کیوں کہ وہ ہمیشہ روایت سے بغاوت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کا الیکشن بھی جیتا اور تین بار بہار اسمبلی کے بھی رکن رہے۔ ان کی اہلیہ لولی آنند سنگھ بھی پارلیمنٹ کی رکن رہ چکی ہیں۔

ایک دہائی قبل بہار کی سیاست میں ان کا طوطی بولتا تھا اور ہر سیاسی پارٹی انہیں اپنے ساتھ لینا چاہتی تھی، مگر اس وقت ان کا برا دور چل رہا ہے کیونکہ ان دنوں وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کرشنیا کے قتل کے مجرم کے طور پر انہیں پھانسی کی سزا ہو چکی ہے اور وہ بھاگلپور جیل میں قید ہیں۔ تاہم عجیب بات یہ ہوئی کہ جیل میں رہتے رہتے انہیں اردو سے عشق ہو گیا ہے اور آج کل وہ اردو سیکھ رہے ہیں۔

اتفاق سے اسی جیل میں گھریلو مظالم کے الزام میں شرف الدین بھی قید تھے جن کو آنند موہن نے اپنا استاد بنا لیا اور وہ ان سے روزانہ اردو کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

اب تک انہوں نے اردو کی ساتویں درجے تک کی کتابیں پڑھ لی ہیں لیکن اب انہیں دقت اس لیے پیش آ رہی ہے کہ ان کے استاد شرف الدین رہا ہو گئے ہیں، اس لیے اب انہیں آگے کی پڑھائی کے لیے کسی دوسرے استاد کی تلاش ہے۔ آنند موہن کہتے ہیں کہ وہ اردو کی آگے کی تعلیم بھی حاصل کریں گے اور جیل سے باہر آنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کا امتحان بھی دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ اردو اخبار کا مطالعہ کرتے ہیں اور جیل کی لائبریری میں موجود اردو کی کتابیں بھی پڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اردو شاعری انہیں بہت پسند ہے، میر، غالب، فراق کے بعد وہ احمد فراز کی شاعری کو پسند کرتے ہیں۔ ایک ایسے شخص کو اردو شاعری نے اپنا اسیر بنا لیا ہے جو حقیقی زندگی میں مار دھاڑ سے زیادہ دلچسپی رکھتا رہا ہے۔

آنند موہن کا مقدمہ ابھی عدالت عالیہ کے سامنے ہے اور اس کا فیصلہ آنا باقی ہے۔

XS
SM
MD
LG