رسائی کے لنکس

پاکستان کی ’گیتا ‘ اور بھارت کی ’گڈی‘ کی تلاش آج بھی ادھوری ہے ، اسے اب تک اپنے والدین نہیں ملے۔ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے اس تلاش میں مدد دینے کی غرض سے عوام کے نام ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے اور اسے مسلسل سات روز تک نشر کرنے کی اپیل کی ہے ۔

پاکستان میں 12 سال گزار کر 2015ء میں بھارت واپس جانے والی لڑکی ’گیتا‘ کو اب تک اپنے والدین نہیں مل سکے۔ اب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے گیتا کے والدین کے بارے میں اطلاع دینے والے کو ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

گیتا ان دنوں بھارتی شہر اندور کے ایک فلاحی مرکز میں مقیم ہیں جہاں سے سشما سوراج نے گیتا کو اپنے ساتھ لیا اور ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔

انہوں نے اپنے پیغام میں بھارت کے سرکاری ٹی وی چینلز ’دوردرشن‘ اور ’دور درشن میٹرو‘ سمیت تمام شہری، دیہی اور چھوٹے بڑے کیبل آپریٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ یہ ویڈیو پیغام کم ازکم سات دن ضرور دکھائیں تاکہ گیتا کے والدین کی تلاش میں آسانی ہو سکے۔

وزیر خارجہ نے اپنے پیغام میں بھارتی عوام کےایک درد ناک پہلو کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیتا کے والدین سامنے آئیں ہم گیتا کو ان پر بوجھ نہیں بنے دیں گے اور شادی سمیت تمام اخراجات حکومت اٹھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص بھی گیتا کو اس کے خاندان سے ملانے میں مدد کر ے گا، اسے ایک لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔

سشما سوراج نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ گیتا نہ سن سکتی ہے اور نہ بول سکتی ہے تاہم اسے تھوڑی بہت ہندی آتی ہے اور وہ اپنا نام ’گڈی ‘ بتاتی ہے۔

انہوں نے 12 سالوں تک’ گڈی عرف گیتا‘ کی پرورش کرنے پر پاکستان کے فلاحی ادارے ’ایدھی ٹرسٹ‘ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بلقیس ایدھی نے اس لڑکی کو ’گیتا‘ نام دیا تھا۔ میں اسے ’گڈی عرف گیتا ‘کہوں گی۔ گڈی نے بھارت آ کر کمپیوٹر چلانا سیکھ لیا ہے لیکن وہ اپنے والدین سے ملنے کے لیے پریشان رہتی ہے۔

گیتا کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 14سال پہلے غلطی سے پاکستانی ٹرین میں بیٹھ کر سرحد عبور کر گئی تھی۔ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ انہوں نے گڈی کے والدین کا دعویٰ کرنے والے کچھ خاندانوں سے ملاقات کی تھی لیکن گڈی عرف گیتا نے انکار کر دیا اور کہا یہ اس کے والدین یا بھائی بہن نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG