رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: لالو پرساد پر بدعنوانی کا جرم ثابت، جیل منتقل


لالو پرساد کو 1996ء میں قائم کیے گئے بدعنوانی کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا اور اُن کی سزا کی مدت کا فیصلہ 3 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

بھارت کے ایک مقبول سیاست دان لالو پرساد یادو کو بدعنوانی اور غبن کے مقدمے میں پیر کو مجرم قرار دے دیا گیا۔

لالو پرساد کی سزا کی مدت کا تعین عدالت تین اکتوبر کو کرے گی۔

سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت کی جانب سے پیر کو سنائے گئے فیصلے کے بعد لالو پرساد کو رنچی میں قائم بسرا مونڈا جیل منتقل کر دیا گیا۔

اُنھیں 1996ء میں قائم کیے گئے بدعنوانی کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا، اس مقدمے کو ’بوگس چارا‘ گھپلے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی خرد برد کی گئی۔

بدعنوانی کے اس مقدمے میں لالو پرساد یادیو کے علاوہ 44 دیگر افراد،جن میں سیاستدان بھی شامل ہیں، کو عدالت قصور وار ٹھہرا چکی ہے۔ تاہم اُن کو 3 اکتوبر کو سزائیں سنائی جائیں گی۔

سزا سنائے جانے کے بعد بھارت کے قوانین کے مطابق لالو پرساد یادو کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نا اہل ہو جائیں گے۔

لالو پرساد یادو ریاست بہار کے وزیر اعلٰی رہ چکے ہیں اور بہار ہی کے ایک اور سابق وزیر اعلٰی جگن ناتھ مشرا بھی بدعنوانی کے اس مقدمے کے مجرمان میں شامل ہیں۔

لالو پرساد یادیو اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی نفی کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG