رسائی کے لنکس

logo-print

انڈین بار کونسل وکالت کرنے والے ارکانِ اسمبلی کو نوٹس جاری کرے گی


یہ نوٹس جمعرات کے اخباروں میں شائع ہوگا اور ایک ہفتے کے اندر اس کا جواب دینا ہوگا۔ اس معاملے میں حتمی سماعت 22 جنوری کو ہو گی۔

وکلاء کے اعلی سطحی ادارے بار کونسل آف انڈیا کی جانب سے تشکیل کردہ ماہرین کی ایک کمیٹی نے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے پانچ سو سے زائد ارکان کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی تھی کہ کیا قانون ساز حضرات عدالتوں میں وکالت کا پیشہ اختیار کر سکتے ہیں۔

ایڈووکیٹ منن کمار مشرا کی سربراہی والی کمیٹی کے مطابق اگر بار کونسل ان کا رجسٹریشن منسوخ کر دے تو وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکیں گے کہ فطری انصاف کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

یہ نوٹس جمعرات کے اخباروں میں شائع ہوگا اور ایک ہفتے کے اندر اس کا جواب دینا ہوگا۔ اس معاملے میں حتمی سماعت 22 جنوری کو ہو گی۔

جن قانون ساز وکلاء پر تلوار لٹکی ہوئی ہے ان میں کپل سبل، پی چدمبرم، ابھشیک منو سنگھوی، کے ٹی ایس تلسی، میناکشی لیکھی اور ستیش مشرا قابل ذکر ہیں۔

پٹیشن داخل کرنے والے اشونی کمار کے مطابق ہمیں جزوقتی نہیں کل وقتی قانون ساز چاہئیں۔ میں نے متعدد بنیادوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ معاملہ غیر قانونی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی۔ اس میں قانون سازوں کے دوہرے کردار پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ممبران اپنی رکنیت کے دوران کسی دوسری جگہ سے مالی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ سینیر کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن ابھشیک منو سنگھوی نے پٹیشن کی مخالفت کی اور سوال کیا کہ کیا ملک بے روزگاروں کی پارلیمنٹ چاہتا ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ سلمان خورشید نے بھی مخالفت کی اور اسے رجعت پسندانہ اور قانونی پیشے میں غیر ضروری مداخلت والا قدم قرار دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG