رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا انتخابات: متنازع سرویز کا آڈٹ، مدد کی پیش کش


رائے شماری کرنے والے ہر فرد کی طرف سے سامنے رکھا گیا ڈیٹا اور حقائق جمع کرنے کے طریقہ کار کا آڈٹ کیا جائے گا، اور اُن کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی جو اخلاقی معیار کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا

انڈونیشیا کی رائے عامہ سے متعلق ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ بیلٹ سرویز کے متعدد نتائج کے آڈٹ میں مدد فراہم کرے گی، جن سے نتائج میں ڈرامائی تبدیلی آئی اور جن کی باعث تنازع اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ پیش کش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدارتی انتخاب میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

بدھ کو پولنگ ختم ہونے کے فوری بعد، سات رائے شماری کرنے والوں نے پولنگ اسٹیشنوں کی فوری گنتی کے نمونے ظاہر کیے اور بتایا کہ جوکو وڈوڈو نے چار یا پانچ فی صد سے الیکشن جیتا ہے۔

تاہم، کم از کم دو رائے شماری کرنے والوں نے اُسی سیمپل کو استعمال کرتے ہوئے اعلان کرتے ہوئے پرابوو سبیانتو کو ایک سے پانچ فی صد شرح سے فاتح قرار دیا۔ بعدازاں، دونوں امیدواروں نے فتح کا دعویٰ کیا۔

حمدی ملک ’پبلک اوپینیئن سروے ایسو سی ایشن‘ کے ضابطہ اخلاق کے بورڈ کے سربراہ ہیں۔

اُنھوں نے وائس آف امریکہ کی انڈونیشین سروس کو بتایا کہ یہ فرق واقع نہ ہوتا اگر رائے شماری کرنے والے تمام افراد نے سائنسی معیار اور ضابطہ اخلاق اپنایا ہوتا، تاکہ غیر جانبداری کے تقاضوں کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ اُن کا گروپ رائے شماری کرنے والے ہر فرد کی طرف سے سامنے رکھا گیا ڈیٹا اور حقائق جمع کرنے کے طریقہ کار کا آڈٹ کرے گا، اور اُن کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی جو اخلاقی معیار کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔ تاہم، اُنھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پابندیاں کس طرح کی ہوں گی۔

کمشنر جوری اردیانتورو نے کہا کہ ’جنرل الیکشنس کمیشن‘ نے تمام فریقین سے کہا ہے وہ 22 جولائی کو ہونے والے سرکاری نتائج کا انتظار کریں۔

XS
SM
MD
LG