رسائی کے لنکس

logo-print

مشتبہ دہشت گرد اسامہ بن لادن سے ملنا چاہتا تھا: انڈونیشیا


انڈونیشیائی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اُن کے ملک کا شہری مشتبہ دہشت گرد اسامہ بن لادن کے ساتھ ملنا چاہتا تھا، جب اسے اِس سال کے آغاز میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا۔

انڈونیشی وزیرِ دفاع پرنومو یوسگیانترو نے منگل کو کہا کہ ایسے ثبوت ملے ہیں کہ عمر پاتک القاعدہ کے دہشت گرد نیٹ ورک کے لیڈر سے ملاقات کی کوشش میں تھا،جنھیں امریکی بحریہ کی سیلز نےکارروائی کرتے ہوئے پیر کو ہلاک کیا۔

پاتک کو جنوری میں ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا جس شہر میں بن لادن متعدد برسوں سے رہائش پذیر تھے۔ پاتک کی گرفتاری کا اعلان مارچ کے آخر تک نہیں کیا گیا۔

یوسگیانترو نے کہا کہ اُن کی حکومت کے پاس ایسی معلومات نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ پاتک کی گرفتاری اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی اور ہلاکت پر منتج ہوئی۔
پاتک کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ 2002ء میں ہونے والے بالی کے بم حملوں کی سازش کے سرغنے ہیں، جس میں اِس صحت افزا جزیرے میں 202افراد ہلاک ہوئے۔ اِس حملے میں ملوث ملزموں میں سے وہ آخری شخص ہیں جنھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

گذشتہ عشرے کے دوران انڈونیشیا میں ہونے والے حملوں جِن میں بالی کے علاوہ دیگر حملے بھی شامل ہیں، اِن کا الزام جمیعہ اسلامیہ کے ارکان کے سر لگایا جاتا ہے، جوایک شدت پسند مذہبی گروپ ہے جو جنوب مشرقی ایشیا پر محیط علاقے پر ایک مسلمان ملک قائم کرنے کے حامی ہیں۔

سنہ 2002کے حملے کے بعد انڈنیشیا کی حکومت نے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں جمعیہ اسلامیہ کے درجنوں دہشت گردوں کے خلاف مقدمات چلائے ہیں اور اُنھیں سزائیں سنائی ہیں۔پاتک اب تک پاکستان میں قید ہیں۔

XS
SM
MD
LG