رسائی کے لنکس

logo-print

ایران اپنے ملک کی حدود میں جوہری ایندھن کے تبادلے پر رضامند


ایران اپنے ملک کی حدود میں جوہری ایندھن کے تبادلے پر رضامند

ایران نے کہاہے کہ وہ اپنی کم تر افزودہ یورینیم کے بدلے نسبتاً زیادہ افزودہ جوہری ایندھن لینے کے لیے تیار ہے لیکن یہ تبادلہ ایرانی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔

ایرانی حکومت نے یہ پیش کش منگل کے روز جاری کی گئی ایک دستاویز میں کی۔ یہ بین الاقوامی ادارے کی اس تجویز کا ایران کی طرف سے پہلا باقاعدہ جواب ہے جس میں ادارے نے کہا تھا کہ وہ اپنے جوہری تحقیقی ری ایکٹر کے ایندھن کے لیے اپنی یورینیم کوافزدوگی کے لیے بیرونی ملکوں میں بھیجے۔

اس ماہ کے شروع میں ایران نے کہا تھا کہ اس نے اپنی یورینیم کی نسبتاً اعلیٰ سطح پر افزدوگی شروع کردی ہے، وہ عمل جس کے بارے میں عالمی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ اس کے ذریعے ایران ایک جوہری بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔

ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکہ اور دوسری عالمی طاقتیں ایران کی جانب سے یورینیم کی افزدوگی کی سرگرمی کی بنا پراس کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کے چوتھے مرحلے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

منگل کے روز چین نے ایک بار پھر کہا کہ اس تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کیا جائے۔

اسرائیل نے، جوایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتاہے، کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے ایک وفد ان مذاکرات کے لیے چین بھیج رہاہے جن کے بارے میں توقع ہے کہ وہ جوہری تنازع پر مرکوز ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG