رسائی کے لنکس

logo-print

فرانس نے ایران کا جوہری الٹی میٹم رَد کردیا



فرانس نے جوہری ایندھن کے حصول کے لیے ایران کی جانب سے خود اپنی شرائط پر عالمی طاقتوں کے ساتھ کسی سمجھوتے کی تازہ ترین کوشش کو رد کردیا ہے۔

وزیرِ خارجہ برنارڈ کوچنر نے پیر کے روز فرانس کے ریڈیو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری ایران سے اُس کے جوہری پروگرام کے بارے میں کسی الٹی میٹم کو تسلیم نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا ہےکہ تہران کے ساتھ مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں ، لیکن وہ جوہری تیاریوں کے بارے میں نہیں ہوں گے۔

ایران نے اُس مجوزہ سمجھوتے کو قبول کرنے کے لیے 31 دسمبر کی آخر ی تاریخ کو نظر انداز کردیا تھا، جسے اقوامِ متحدہ کی تائید حاصل تھی۔ اور جس میں ایران کو یہ پیش کش کی گئى تھی کہ وہ اپنے ریسرچ کے ایک ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال کے لیے اپنا یورینیم کسی دوسرے ملک کو بھیج کر افزودہ کرائے۔

ہفتے کے روز تہران نے اعلان کیا کہ مغرب کے پاس ایک جوابی تجویز قبول کرنے کے لیے ایک مہینے کی مہلت ہے، ورنہ وہ خود اپنا جوہری ایندھن بنا نا شروع کردے گا۔ ایران کی تجویز ہے کہ وہ مغرب سے ایندھن خریدلے یا کم مقدار میں اپنے یورینیم کے بدلے میں جوہری ایندھن کی سلاخیں حاصل کرتا رہے۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے صدارتی مُشیر مائیک ہیمر نے کہا ہے کہ ایران نے الٹی میٹم جاری کرکے خود اپنا راستہ روک لیا ہے۔

XS
SM
MD
LG