رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی حزبِ اختلاف کے لیڈر کا نیا انتباہ


ایرانی حزبِ اختلاف کے لیڈر مِیر حسین موسوی نے تہران کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ طاقت کے ذریعے اصلاحات کی تحریک کو نہیں کچل سکے گی اور یہ کہ وہ شہید ہوجانے کے امکان سے خوف زدہ نہیں ہیں۔

موسوی نے ” کلمہ اور جرس“ کے نام سے معروف خود اپنی وَیب سائٹ پر جمعے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اس وقت ”ایک سنگین بحران“ سے گزر رہا ہے۔

موسوی نے خبردار کیا ہے کہ حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو جیل میں ڈال دینے یا ہلاک کردینے سے حالات پُر سکون نہیں ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے اُس پانچ نکاتی منصوبے پر عمل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جس میں سیاسی قیدیوں کی رہائى اور الیکشن سے متعلق کسی شفاف قانون کا نفاذ شامل ہے۔

انہوں نے یہ بیان صدر محمود احمدی نژاد کے متنازع انتخابات پرجُون میں خوں ریز ہنگاموں کے بعد تشدّد کے بعض بدترین واقعات کے بعد جاری کیا ہے۔

تہران میں قدامت پرست مُلّا آیت اللہ احمد جنتی نے نمازِ جمعہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کا احتجاجی مظاہروں میں ہاتھ ہے اُنہیں جیلوں میں رکھنا چاہئیے۔انہوں ایسے لوگوں پر ”زمین پر بد کار“ ہونے کا الزام بھی عائد کیا، جو ایک ایسا الزام ہے جس پر اسلامی قانون کے تحت موت کی سزا دی جاسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG