رسائی کے لنکس

logo-print

ٹیلیگرام پر عدالتی پابندی جمہوریت کے منافی ہے: روحانی


ایران کے صدر حسن روحانی۔فائل فوٹو

ایران کے صدر حسن روحانی نے عدالت کی طرف سے انٹرنیٹ پر پیغام رسانی کی سروس 'ٹیلیگرام' پر پابندی عائد کیے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت اس اقدام کی حمایت نہیں کرتی۔

اپنے انسٹاگرام پر روحانی کا کہنا تھا کہ "حکومت ایک محفوظ انٹرنیٹ چاہتی ہے نہ کہ کنٹرول شدہ۔"

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے لیے نہ تو حکومت نے حکم دیا اور نہ ہی وہ اس کی توثیق کرتی ہے۔

"ہم معلومات کی آزادانہ فراہمی کے ساتھ ساتھ انتخاب کی آزادی کے شہری حقوق چاہتے ہیں، یہ اقدام جمہوریت کے منافی ہے۔"

ایران کی میڈیا و ثقافت کی عدالت نے گزشتہ ہفتے یہ کہہ کر کر ٹیلیگرام پر پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ ایران کی سلامتی کے لیے خطرے پر مبنی اقدام کے استعمال کی جاتی رہی جن میں گزشتہ دسمبر اور رواں سال جنوری میں ہونے والےمظاہروں، پارلیمنٹ پر حملے اور گزشتہ جون میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر حملے پر اکسانے میں استعمال کی گئی۔

عدالت کی طرف سے اس پابندی کے لیے کئی ماہ تک ملک کی مذہبی اشرافیہ اور حکومت میں سخت گیر موقف رکھنے والے اس اقدام کے لیے زور دیتے آ رہے تھے۔

گو کہ صدر روحانی اس عدالتی حکم کو تنقید کر رہے ہیں لیکن 'الجزیرہ نیٹ ورک' کے مطابق ایران میں بہت سے لوگ اس پر روحانی کو ہی ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ایران کی آبادی کا ایک بڑا حصہ 'ٹیلیگرام' کو اپنے کاروباری اور تفریحی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر بھی ایران میں حکومت نے کئی سال تک پابندی عائد کیے رکھی تھی۔

ٹیلیگرام روس میں بھی بہت مقبول ہے اور وہاں بھی حال میں پابندی عائد کی تھی جس پر مظاہرے بھی دیکھنے میں آ چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG