رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی ضرورت پر سعودی عرب کے شبہات


ہلری کلنٹن ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے خلیج کے ملکوں کا دورہ کررہی ہیں

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام کی بنا پر اُس کے خلاف مزید پابندیوں کی ضرورت کے بارے میں شک و شبہے کا اظہار کیا ہے۔

شہزادہ سعود الفیصل کا کہنا ہے کہ پابندیاں ایک طویل المعیاد حل ہے اور ایران کا جوہری پروگرام ایک فوری خطرے کے زیادہ قریب ہے۔

انہوں نے پیر کے روز ریاض میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے، جوایران کے خلاف مزید پابندیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے خلیج کے ملکوں کا دورہ کررہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، یورینیم کو افزودہ کرنے کے کام کو روک دینے سے انکار کی بِنا پر ایران کے خلاف پابندیاں تین قسطوں میں عائد کرچکی ہے۔ یورینیم کی افزودگی کے مرحلے کو جوہری اسلحہ بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پیر کے روز امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے قطر میں کہا کہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ ایران ایک فوجی آمریت بنتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی دستہ، پاسدارانِ انقلاب، عملاً حکومت کا ایک حصّہ ہے۔

اتوار کے روز انہوں نے قطر میں امریکی اسلامی عالمی فورَم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ، ایران کے ساتھ جوہری تنازعے کا کوئى پُر امن حل چاہتا ہے، لیکن وہ ایسے وقت میں ایرانیوں کے ساتھ کوئى سلسلہ جنبانی قائم نہیں کرے گا جب وہ ، اُن کے الفاظ میں،” اپنا بم بنا رہے ہیں“۔

ایران کا کہنا ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ پیر کے روز قطر میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دوبارہ امن مذاکرات شروع کرانے کے لیے امریکی کوششوں کے بارے میں بھی بات کی ہے۔انہوں نے کہ کہ وہ اس بارے میں پُر امید ہیں کہ اس سال دونوں فریقوں کے درمیان سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG