رسائی کے لنکس

logo-print

بے گناہ 14 عراقیوں کا قتل، بلیک واٹر کے چار محافظوں کو سزا


مقدمے میں ملوث اِن چاروں محافظوں کو اکتربر میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔ اُن پر یہ الزام ثابت ہوا کہ امریکی سفارتی قافلے کی نگہبانی کرتے ہوئے، بغداد کے نصور اسکوائر پر، اُنھوں نے عراقی شہریوں پر فائر کھول دیا تھا

امریکہ کے ایک وفاقی جج نےسنہ2007میں بغداد میں 14 عراقی شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے الزام میں پیر کے روز سابق بلیک واٹر کے سکیورٹی گارڈ، نکولس سلیٹن کو عمر قید کی سزا سنائی۔

تین دیگر سابق محافظوں۔۔ ڈسٹن ہَرڈ، ایوان لبرٹی اور پال سلو۔۔ کو 30 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جج رائس لمبرتھ نے مدعا علیہ کی جانب سےپیش کردہ رعایت برتنے کی استدعا کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ جرائم بہت سنجیدہ نوعیت کے ہیں جب کہ سزا انتہائی درجے کی نہیں۔

مقدمے میں ملوث اِن چاروں محافظوں کو اکتربر میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔ اُن پر یہ الزام ثابت ہوا کہ امریکی سفارتی قافلے کی نگہبانی کرتے ہوئے، بغداد کے نصور اسکوائر پر، اُنھوں نے عراقی شہریوں پر فائر کھول دیا تھا۔

بلیک واٹر محافظوں کے وکلا نے دلیل دی تھی کہ وہ گولیوں کی زد میں آچکے تھے اور اپنے بچاؤ میں اُنھوں نے فائر کھولا۔ اُن کا کہنا تھا کہ محافظوں کے حالات کار کشیدہ، تشدد زدہ اور جنگی ماحول کی لپیٹ میں تھے۔

استغاثے کا کہنا ہے کہ یہ سریحاً غلط ہے کہ اُن پر گولیاں چلائی گئی تھیں اور یہ کہ اُنھوں نے بغیر اشتعال کے گولی چلائی۔ اُنھوں نے یہ بھی استدلال پیش کیا کہ کسی بھی محافظ نے بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے پر شرمساری کا اظہار نہیں کیا۔ مرنے والوں میں کم از کم ایک بچہ شامل تھا۔

اِن شوٹنگز کے نتیجے میں عراقیوں میں غم و غصے کی لہر چھا گئی تھی اور متعدد امریکوں نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ محکمہٴخارجہ ایک جنگی زون میں نجی سکیورٹی کنٹریکٹرز کی خدمات کیوں حاصل کر رہی ہے۔

نارتھ کیرولینا میں قائم بلیک واٹر کو بیچ دیا گیا اور کئی بار اُس کا نام تبدیل کیا گیا۔ اب یہ شمالی ورجینیا میں قائم ہے اور اِس کا نام ’اکیڈمی‘ رکھا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG