رسائی کے لنکس

logo-print

بغداد میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر علاوی کی تشویش


عراق کے سابق وزیرِ اعظم ایاد علاوی نے پچھلے مہینے کے پارلیمانی انتخابات کے بعد بغداد میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مسٹر علاوی نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ بغداد میں ڈالے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ ہاتھوں سے گنتی کی حمایت کرتے ہیں۔لیکن انہوں نے کہا ہے کہ اُن دوسرے علاقوں میں بھی دوبارہ گنتی ہونی چاہئیے، جہاں الیکشن کے دوران مسائل پیدا ہوئےتھے۔ انہوں نے خاص طور پر بصرہ اور نجف کا ذکر کیا۔

مسٹر علاوی کے اتحاد عراقیہ کے دوسرے ارکان نے بھی دوبارہ گنتی کے اُس طریقے کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے، جو انتخابی نتائج کو غیر منصفانہ طور پر تبدیل کرسکتا ہے۔

عراق میں الیکشن سے متعلق ایک کمیٹی نے پیر کے روز وزیرِ اعظم نوری المالکی کی ایک اپیل کے بعد حکم دیا تھا کہ پچھلے مہینے پارلیمانی انتخابات کے دوران بغداد میں ڈالے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ دستی گنتی کی جائے۔

325 نشستوں کی پارلیمنٹ کے لیے ڈالے جانے والے تمام ووٹوں میں چونکہ صرف بغداد کے ووٹ تقریباً 20 فیصد کے برابر ہیں ، اس لیے از سر نو گنتی میں سات مارچ کے اُس الیکشن کے نتائج بدل سکتے ہیں جس میں پہلے ہی مقابلہ بہت سخت ہے۔

مسٹر مالکی کا اتحاد صرف دو نشستوں کے فرق سے سابق وزیرِ اعظم ایاد علاوی کے سیکیولراتحاد کے بعد دوسرےنمبر پر ہے۔

تاہم مسٹر علاوی کے اتحاد کا کہنا ہے کے اُسے بغداد سمیت پانچ صوبوں میں وسیع پیمانے پر فراڈ کی ایسی شہادت مل گئى ہے جس سے الیکشن کے نتائج پر نمایاں پڑ سکتا تھا۔

سابق وزیرِ اعظم علاوی کا سیکیولر اتحاد عراقیہ مسٹر مالکی کے اتحاد سے دو نشستیں زیادہ لےکر 91 نشستوں پر کامیاب ہوا ہے۔دونوں گروپ مخلوط حکومت بنانے کی خاطر پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے لیے دوسری پارٹیوں کی حمایت کے حصول میں کوشاں ہیں۔

بین الاقوامی مبصّرین کا کہنا ہے کہ انتخابات منصفانہ ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG