رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: سیاسی پارٹیاں الیکشن کا بائیکاٹ کرسکتی ہیں


یہ پارٹیاں اُس فیصلے پر برہم ہیں جس کے تحت ایک ممتاز سیکیولر اور سنّی رکن پارلیمنٹ اور اُن کی پارٹی پر پابندی عائد کی گئى ہے کہ وہ الیکشن میں حصّہ نہیں لے سکتے

عراق میں سنّی پارٹیوں سمیت، سیاسی پارٹیوں کے ایک اتحاد نے کہا ہے کہ اُس میں شامل پارٹیاں ملک میں عنقریب ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کرسکتی ہیں۔

یہ پارٹیاں اُس فیصلے پر برہم ہیں، جس کے تحت ایک ممتاز سیکیولر اور سنّی رکن پارلیمنٹ اور اُن کی پارٹی پر پابندی عائد کی گئى ہے کہ وہ الیکشن میں حصّہ نہیں لے سکتے۔


اس ہفتے کے شروع میں عراقی پارلیمنٹ کی عدل و احتساب کی کمیٹی نے صدام حسین کی سابق برسرِ اقتدار بعث پارٹی کے ارکان کی حمایت میں آواز بلند کرنے پر صالح المطلق کو عنقریب ہونے والے انتخابات میں شرکت کے لیے نا اہل قرار دینے کی تحریک پیش کی تھی۔

المطلق اس الزام کی تردید کرتے ہیں اور انہوں نے اس فیصلے کے خلاف لڑنے کا وعدہ کیا ہے۔اور سیاسی پارٹیوں کے ایک اتحاد کے ایک ترجمان نے خبر رساں ایجنسی رائیٹر کو بتایا ہے کہ اگر پارلیمانی کمیٹی نے پابندی کا فیصلہ برقرار رکھا تو اتحاد الیکشن میں اپنی شرکت پر نظرِ ثانی کرے گا ۔

تجزیہ نگاروں نے جمعرات کے روز کے اعلان کو امریکی عہدے داروں کے لیے باعثِ تشویش کہا ہے ، جنہیں اُمید تھی کہ انتخابات حزبِ اختلاف کے گروپوں کو سیاسی عمل میں شامل کرلیں گے اور اس طرح عراقی حکومت مستحکم ہوگی۔

کم سے کم 13 اور سیاسی پارٹیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اُن کے سابق بعث انتظامیہ کے ارکان کے ساتھ رابطے ہیں۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی اعلان کردہ پابندی کی چند دنوں میں توثیق کی جاسکتی ہے۔

بیشتر سنّیوں نے 2005 میں پچھلے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG