رسائی کے لنکس

logo-print

عراق میں انتخابی مہم شروع ہو گئى


عراق میں سات مارچ کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم باضابطہ طور پر شروع ہو گئى ہے اور جمعے کے روز پورے بغداد میں اوّلین انتخابی پوسٹر چسپاں کر دیے گئے۔

یہ انتخابی مہم کئى سنّی اُمید واروں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر جاری کشیدگی کے دوران شروع ہوئى ہے۔ ان اُمید واروں کو سابق عراقی لیڈر صدام حسین کی بعث پارٹی کے ساتھ مبیّنہ رابطوں کی وجہ سے الیکشن کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے نتیجے میں ملک کی شیعہ اکثریت اور سنّی اقلیت کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔صدام کے دور میں حکومت میں سنّیوں کا غلبہ تھا۔
اسی دوران، صحتِ عامّہ کے عراقی عہدے داروں نے کہا ہے کہ بغداد کے جنوب میں واقع شیعوں کے مقدّس شہر نجف میں جمعے کے روز بموں کے متعدد دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور کم سے کم 35 زخمی ہو گئے۔

اور امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی سرحد کے قریب ایک گاؤں میں امریکی اور عراقی فوج کے ایک مشترکہ چھاپے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

فوج نے کہا ہے کہ شبہ ہے کہ ہلاک ہونے والے ایک ایسے ملیشیا گروپ کے ارکان تھے، جسے ایران کی پُشت پناہی حاصل ہے۔ لیکن مقامی حکام کا کہنا ہے کہ کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اُن میں بیشتر عام شہری تھے۔فوری طور پر کوئى اور تفصیل معلوم نہیں ہوئى۔

XS
SM
MD
LG