رسائی کے لنکس

logo-print

صدام کے دور کے 20ہزار فوجی افسروں کی دوبارہ فوج میں شمولیت


عراقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ برّی فوج کے ایسے 20 ہزار افسروں کو ملازمتوں پر بحال کردے گی ، جنہوں نے صدام حسین کے تحت خدمات انجام دی تھیں اور جنہیں 2003 میں امریکہ کے زیرِ قیادت فوج کشی کے بعد برطرف کردیا گیا تھا۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان محمد علی عسکری نے جمعے کے روز کہا ہے کہ سابق افسروں کو فوری طور پر دوبارہ ملازم رکھ لیا جائے گا۔

ترجمان نے اس الزام سے انکار کیا ہے کہ افسروں کی بحالی کوئى سیاسی چال ہے جس کا مقصد سات مارچ کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے سنّی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔

عراق میں حال ہی میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ، جس کی ایک بڑی وجہ، حکومت کی جانب سے درجنوں سنّی اُمیدواروں کو سابق برسرِ اقتدار بعث پارٹی کے ساتھ مبیّنہ رابطوں کے الزام میں الیکشن کے لیے نا اہل قرار دینے کا اقدام ہے۔

جمعے کے روز ہی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق کے خلاف اُن تجارتی پابندیوں کو ختم کرنے کی جانب پہلا قدم اُٹھایا ہے، جو تقریباً دو عشرے پہلے اُس وقت عائد کی گئى تھیں، جب صدام حسین نے 1990 میں کوویت پر فوج کشی کی تھی۔

XS
SM
MD
LG