رسائی کے لنکس

logo-print

عراق کا انتخابی تنازع، فاضل ججوں کے سامنے لایا جائے گا


گذشتہ ہفتے کے عدالتی فیصلے کی رو سے پارلیمانی انتخابات میں امیدواروں پر لگی ہوئی پابندی اُٹھالی گئی تھی۔

عراق کے وزیرِ اعظم نوری الماکی نے کہا ہے کہ کورٹ کے متنازع فیصلے پر عدالتی نظرِ ثانی کی جائے گی، جس کے تحت صدام حسین کی بعث پارٹی سے مبینہ رابطے رکھنے والے امیدواروں کو آنے والے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

وزیرِا عظم نے یہ اعلان پیر کے روز کیا، جب عراق کے قانون سازوں نے اِس معاملے پر بات چیت کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ اعلان کے بعد اجتماع برخواست کیا گیا۔

گذشتہ ہفتے کے عدالتی فیصلے کی رو سے سات مارچ کے پارلیمانی انتخابات میں 500امیدواروں پر لگی ہوئی پابندی اُٹھالی گئی تھی۔

اتوار کو عراقی شیعہ حضرات نے اِس فیصلے کے خلاف ملک کے شیعہ اکثریت کے شہروں میں اجتماعات منعقد کیے۔

عراق کی شیعہ اکثریتی حکومت نے بعث پارٹی کے سابق اعلیٰ سطح کے عہدے داروں کو منظر سے ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے باعث عراق کی شیعہ اکثریت اور سنیوں کے مابین تناؤ بھڑک اُٹھے گا، جو صدام کے دور میں برسرِ اقتدار تھے۔

XS
SM
MD
LG