رسائی کے لنکس

logo-print

داعش نے دمشق کے مضافاتی کیمپ پر قبضہ کر لیا


اردن نے علاقے میں لڑائی کے باعث سرحدی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے لبنان اور شام سے آنے والے ٹرک اور دوسری ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔

شدت پسند تنظیم داعش نے شدید لڑائی کے بعد شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع فلسطینی مہاجر کیمپ کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق شدت پسند بدھ کو دمشق کے نواح میں فلسطینی مہاجر کیمپ میں داخل ہوئے اور اس کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

روایتی طور پر یہ کیمپ بشار الاسد کی حکومت کے حامی فلسطینیوں کے کنٹرول میں رہا ہے۔

2012ء میں یہاں لڑائی شروع ہونے کے بعد ہزاروں مہاجرین یرموک سے لبنان اور اردن چلے گئے تھے۔ اب بھی یہاں اطلاعات کے مطابق 15 ہزار افراد مقیم ہیں جنہیں بنیادی ضروریات زندگی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ بدھ سے جاری "اس متحارب تنازع" میں کئی مسلح گروپ ملوث ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق القاعدہ سے منسلک جبھۃ النصرہ بھی داعش کے ساتھ مل کر حکومت کی حامی فورسز کے قبضے سے یہ کیمپ حاصل کرنے کی لڑائی میں شرکت کی۔

لیکن اسد حکومت کے حامی ایک دفاعی تجزیہ کار نے شامی ٹی وی کو بتایا کہ دو عسکریت پسند گروپ یہاں آپس میں لڑ رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ ان خبروں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کرسکا۔

تجزیہ کار نے شامی حکومت کے کنٹرول میں اردن کے ساتھ واحد بچ جانے والی سرحدی گزرگارہ کو بند کرنے کی بھی مذمت کی۔

اردن نے علاقے میں لڑائی کے باعث اس گزرگاہ کو بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے لبنان اور شام سے آنے والے ٹرک اور دوسری ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔

امریکن یونیورسٹی آف بیروت پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہلال خاشان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ نہیں مانتے کہ یرموک پر قبضے سے داعش یا جبھۃ النصرہ اسد کی فورسز کے اسٹریٹیجک پوزیشن کو متاثر کر سکیں گی۔

"یہ سارا علاقہ سرکاری فورسز کے کنٹرول میں ہے اور داعش کے شدت پسند دمشق کے ایک اور قریبی علاقے الحجر الاسود کی طرف سے آئے۔ لہذا آپ نے یہاں فورسز کو ایک محصور علاقے سے دوسرے محصور علاقے تک جانے سے روک دیا ہے، تو میرا نہیں خیال کہ اس سے کچھ زیادہ فرق پڑتا ہے سوائے اس کے کہ تکریت پر قبضے کے بعد یہ اپنی طاقت دکھانے کی ایک اور کوشش ہے۔"

لیکن یونیورسٹی آف اوکلاہوما میں مشرق وسطیٰ پروگرام کے ڈائریکٹر جوشوا لنڈس کہتے ہیں کہ یرموک پر قبضہ حکومت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

"یرموک کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس سے ان سوالوں نے جنم لیا ہے کہ آیا حکومت کا خاتمہ قریب ہے۔۔۔داعش اور جبھۃ النصرہ کا دمشق کے مضافات میں یرموک پر قبضہ حکومت کی قوت کے لیے سوالیہ نشان ہے۔"

لنڈس نے حکومت کی حامی جنگجو خواتین کو لے جانے والی بس پر دمشق کے باہر باغیوں کے حملے کا تذکرہ بھی کیا جس میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی بھی ہوئے۔

XS
SM
MD
LG