رسائی کے لنکس

مغربی کنارے میں قائم ’غیر قانونی یہودی بستی‘ گرانے کی کارروائی


اس واقعہ میں لگ بھگ 20 اہلکار زخمی ہوئے، تاہم زیادہ تر مکین خاموشی کے ساتھ سامان اٹھا کر اپنے بچوں کو ساتھ لے کر چلے گئے۔

اسرائیلی پولیس مغربی کنارے میں قائم ایک غیر قانونی بستی کے تقریباً 50 یہودی خاندانوں کو وہاں سے نکالنے کے بعد اب درجنوں مکانوں کو گرانے کی کارروائی جمعرات کو شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رملہ کے شمال مشرق میں امونا کی یہودی بستی کو عدالتی حکم کے تحت خالی کروانے کے لیے جب پولیس وہاں پہنچی تو سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔

مشتعل مظاہرین اور وہاں کے مکینوں نے پولیس پر آوازیں کستے ہوئے کہا کہ "یہودی یہودیوں کو بے دخل نہیں کرتے۔"

اس واقعہ میں لگ بھگ 20 اہلکار زخمی ہوئے، تاہم زیادہ تر مکین خاموشی کے ساتھ سامان اٹھا کر اپنے بچوں کو ساتھ لے کر چلے گئے تاہم ان میں بعض نے واپس آنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ایک روز قبل ہی وزیر اعظم نتین یاہو نے یہاں سے بے دخل کیے جانے والے لوگوں کے لیے مغربی کنارے میں کسی دوسری جگہ تین ہزار گھروں کی تعمیر کی منظور ی دی۔

ایک طرف امونا کے بے دخل کیے جانے والے مکین اور ان کے حامی پریشان حال تھے تو دوسری طرف فلسیطین کے قریبی گاؤں کے عرب مکینوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کیا۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے 2014 میں فیصلہ دیا تھا کہ امونا کی بستی ایک نجی فلسطینی زمین پر تعمیر کی گئی تھی اور اسے گرا دیا جائے۔ دوسری طرف قدامت پسند اسرائیلی عہدیدار اس فیصلے کو تبدیل کروانے کے لیے کوشاں رہے۔

XS
SM
MD
LG