رسائی کے لنکس

logo-print

یہودی بستیوں کی تعمیرپر پابندی کے خاتمے کے فیصلے پر تنقید


یہودی بستیوں کی تعمیرپر پابندی کے خاتمے کے فیصلے پر تنقید

اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے میں نئی متنازع بستیوں کی تعمیر پر جزوی پابندی کے خاتمے کی جہاں عالمی سطح پر مذمت شروع ہوگئی ہے وہیں مشرق وسطیٰ امن مذاکرات بحال رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان پی جے کرولی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ امریکہ کواسرائیل کی جانب سے دس ماہ سے جاری اس پابندی میں توسیع نا کرنے کے فیصلے پر مایوسی ہوئی ہے ۔ ایک روز قبل میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے سفارت کار جارج مچل رواں ہفتے علاقے کا دورہ کر کے اس معاملے پر بات چیت کریں گے۔

پیرس میں فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے ۔ صدر سارکوزی نے یہودی بستیوں کے تعمیراتی منصوبوں کو ختم کرنے کے لیے کہا ہے ، جیساکہ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون، یورپی ممالک اور برطانوی حکومت بھی کہہ چکے ہیں۔

محمود عباس نے پیر کو فرانسیسی صدر کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھنے یا اُس سے الگ ہونے کے بارے میں جلد بازی میں فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

محمود عباس نے کہا کہ وہ فلسطینی قیادت اور چار اکتوبر کو عرب لیگ کے اجلاس میں اس معاملے پر بات چیت کریں گے کہ تعمیراتی منصوبوں پر پابندی کے فیصلے کے خاتمے کے بعد کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG