رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے الگ بسوں کا مجوزہ منصوبہ مسترد


حزبِ مخالف کے ایک رہنما آئزک ہرزوگ نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے ’’ملک کے چہرے پر داغ‘‘ لگ گیا ہے۔

اسرائیل وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے مغربی کنارے پر بسوں میں فلسطینیوں کو اسرائیلیوں سے علیحدہ کرنے کے مجوزہ منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ ان کے وزیرِ دفاع نے تجویز کیا تھا۔

وزیرِ اعظم کے دفتر کے ایک اہلکار نے کہا کہ نیتن یاہو نے وزیرِ دفاع موشے یعلون کو ٹیلی فون کر کے کہا کہ انہیں مجوزہ منصوبہ ’’ناقابلِ قبول‘‘ لگا اور پھر ان دونوں نے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

یعلون نے یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسلسل شکایات کے بعد بدھ کو بسوں میں فلسطینیوں کو اسرائیلیوں سے علیحدہ کرنے کا ایک سہ ماہی آزمائشی پروگرام شروع کیا تھا۔

شکایات میں کہا گیا تھا کہ فلسطینی کارکن ان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور مبینہ طور پر یہودی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں۔

ہزاروں فلسطینی روزانہ روزگار کے لیے اسرائیل جاتے ہیں اور یہودی آباد کاروں کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔

حزبِ مخالف کے ایک رہنما آئزک ہرزوگ نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے ’’ملک کے چہرے پر داغ‘‘ لگ گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG