رسائی کے لنکس

پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کوششیں ’دگنی‘ کرے: جم میٹس


امریکی وزیرِ دفاع پیر کو وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کر رہے ہیں

امریکی وزیرِ دفاع نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ چند عناصر افغانستان میں اپنے ایجنڈے کے فروغ کے لیے اب بھی پاکستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ دفاع جم میٹس نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خاتمے کوششوں کو مزید تیز کرے۔

بطور امریکی وزیرِ دفاع جم میٹس نے پیر کو پاکستان کا پہلا دورہ کیا تھا جس کے اختتام پر امریکی سفارت خانے سے جاری بیان کے مطابق جم میٹس نے کہا کہ اُن کا ملک دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتا ہے۔

جم میٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان، امریکہ اور دیگر ممالک کے کے ساتھ مل کر افغانستان میں دیرپا امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اپنے ایک روزہ دورے کے دوران جم میٹس نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے علاوہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری بیان کے مطابق جنرل باجوہ نے جم میٹس سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان نے اپنے حصے سے بڑھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کیا اور پاکستان میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

تاہم امریکی وزیرِ دفاع نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ چند عناصر افغانستان میں اپنے ایجنڈے کے فروغ کے لیے اب بھی پاکستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔

جم میٹس نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ امریکہ پاکستان کے جائز تحفظات دور کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

’آئی ایس پی آر‘ سے جاری بیان میں امریکہ وزیرِ دفاع کے حوالے سے کہا گیا کہ اس دورے کا مقصد مطالبات کرنا نہیں بلکہ مل کر کام کرنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق جم میٹس سے ملاقات میں پاکستانی وزیراعظم نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان روابط کو کثیر الجہتی بنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکہ کے اس عزم کو بھی سراہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

شاہد خاقان عباسی نے امریکی وزیرِ دفاع کو بتایا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں اور پوری قوم ہر طرح کی دہشت گردی کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اپنے ملک میں موجود دہشت گردوں، خاص طور پر حقانی نیٹ ورک کی مبینہ پناہ گاہوں کے خاتمے کو یقینی بنائے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا سے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے موقف میں فاصلہ ہے جسے مذاکرات کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG