رسائی کے لنکس

logo-print

گذشتہ سال سیاسی تشدد میں 209 افراد ہلاک


کراچی میں سال 2009ء کے دوران 291 افراد کو گھات لگا کر قتل کیا گیاجن میں 209 سیاسی کارکن بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کراچی کی مرتب کردہ رپورٹ میں دیے گئے ہیں۔ اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر قتل کیے جانے والے افراد کا تعلق شہر میں موجود تقریباً تمام سیاسی جماعتوں سے ہے تاہم سب سے زیادہ کشیدگی متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ کے درمیان پائی گئی جن کے ہلاک ہونے والے کارکنان کی تعداد مجموعی طور پر 137 رہی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سال شہر میں قتل اور حادثاتی اموات کی شرح میں 92 فیصد اضافہ ہوا جن میں 11.3 فیصد خواتین، آٹھ فیصد بچے جب کہ مردوں کے قتل کی شرح 81 فیصد رہی اور مجموعی طور پر 1747 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

رپورٹ میں دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق سال 2009ء کے دوران قتل و ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد198 رہی۔ ان میں 75 خواتین نامعلوم افراد کے ہاتھوں جب کہ 69 خواتین اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں مختلف وجوہات کی بناء پر قتل کر دی گئیں۔ ان میں سب سے زیادہ ہلاکتیں جھلسنے کے واقعات میں ہوئیں جن کی تعداد 30 ہے جب کہ ذاتی جھگڑوں کی بناء پر 25 ، پسند کی شادی پر 15 اور کردار پر شک کی بنیاد پر11 خواتین کو قتل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال شہر میں 134 بچے بھی مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے جن میں 34 بچے نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کا نشانہ بنے، جھونپڑیوں میں آتشزدگی سے 26 جب کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی، کراچی واٹر بورڈ اور شہری حکومت کی لاپرواہی نے 10 بچوں کی جان لی۔ 11 بچے اغواء و تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیے گئے جبکہ چار بچے مفت راشن کے حصول کے لیے کچلے جانے سے ہلاک ہوئے۔

کمیشن برائے انسانی حقوق کے مرتب کردہ یہ اعداد وشمار شہر میں مختلف انسانی رویوں کی انتہا اور انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی کو ظاہر کر رہے ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر قتل ہو، خواتین کے حقوق کی پامالی ہو یا قتل ہونے والے بے گناہ بچے۔ ملک کے اقتصادی مرکز میں پیش آنے والے یہ واقعات ہر طبقے کے لیے تشویش کا باعث ہیں اور معاشرے میں پائی جانے والی ناہمواریوں اور عدم برداشت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG