رسائی کے لنکس

logo-print

کینیا: سپریم کورٹ نے صدر کینیاٹا کی جیت کی تصدیق کر دی


سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ولی موٹونگا نے ایک ہفتے کی سماعت کے بعد ہفتے کی شام اپنا فیصلہ ان الفاظ میں سنایا، ’’عدالت کا فیصلہ یہ ہے کہ انتخابات مکمل طور پر آئینی اور قانونی تھے۔‘‘

کینیا کی سپریم کورٹ نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ اوہورو کینیاٹا اس ماہ کے اوائل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیاب ٹھہرے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ان دعووں کی نفی ہوئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابات شفاف نہیں تھے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ولی موٹونگا نے ایک ہفتے کی سماعت کے بعد ہفتے کی شام اپنا فیصلہ ان الفاظ میں سنایا، ’’عدالت کا فیصلہ یہ ہے کہ انتخابات مکمل طور پر آئینی اور قانونی تھے۔‘‘

چیف جسٹس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا، ’’اب یہ کینیا کے عوام پر ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کینیا میں اتحاد اور امن رہے اور کینیا کی خودمختاری پر آنچ نہ آئے۔‘‘

عدالت کے اس فیصلے سے اوہورو کینیاٹا کی جیت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ کینیا کے الیکشن کمیشن کے مطابق انہوں نے صدارتی انتخابات میں پچاس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جو کہ صدارتی انتخاب جیتنے کے لیے کافی تھے۔ یہ صدارتی انتخاب انہوں نے اپنے حریف اور کینیا کے سابق وزیر ِ اعظم رائیلا اوڈنگا کو ہرا کر جیتا تھا۔

رائیلا اوڈنگا نے صدارتی انتخابات کے نتائج کو سپریم کورٹ میں یہ کہتے ہوئے چیلنج کر دیا تھا کہ انتخابات میں بے ضابطگیاں تھیں۔
XS
SM
MD
LG