رسائی کے لنکس

logo-print

امن مذاکرات، امریکی وزیرِ خارجہ اردن پہنچ گئے


جناب کیری کے دورے کا مقصد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کسی امن معاہدے پر اتفاقِ رائے کا حصول ہے

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے سلسلے میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اردن پہنچ گئے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ جناب کیری جمعے کو بحیرۂ احمر کے کنارے واقع اردن کے شہر العقبہ پہنچے ہیں جہاں وہ اردن کے حکمران شاہ عبداللہ سے ملاقات کریں گے۔

جناب کیری کے دورے کا مقصد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کسی امن معاہدے پر اتفاقِ رائے کا حصول ہے اور اس مقصد کے لیے وہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے مسلسل دورے کر رہے ہیں۔

امکان ہے کہ اسرائیل و فلسطین کے درمیان مذاکرات کا حالیہ دور ختم ہونے کے بعد اپریل کے اختتام تک امریکی وزیرِ خارجہ ممکنہ امن معاہدے کے خدو خال کا اعلان کریں گے۔

مذاکرات کے حالیہ دور کے متعلق بہت کم تفصیلات ذرائع ابلاغ میں آئی ہیں البتہ دونوں فریقوں نے برسرِ عام ایک دوسرے پر مذاکرات کو ناکامی سے دوچار کرنے اور فریقِ مخالف کو رعایت دینے سے انکار کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو مذاکرات کے ذریعے اپنے حریف اور فلسطین کے صدر محمو د عباس سے اسرائیل کو بطور یہودی ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے صدر عباس ماننے سے انکاری ہیں۔

فلسطینی صدر کا موقف ہے کہ اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کرلینے کے نتیجے میں اسرائیل کے عرب شہریوں اور ان فلسطینی مہاجرین کے حقوق خطرے سے دوچار ہوجائیں گے جو اپنے ان آبائی گھروں کو لوٹنے کے خواہش مند ہیں جہاں سے انہیں اسرائیلی حکام نے بے دخل کیا تھا۔

مذاکرات کے ذریعے دونوں فریق سکیورٹی سے متعلق امور، مسقبل کی سرحدوں اور مجوزہ فلسطینی ریاست میں یروشلم کی حیثیت جیسے متنازع امور پر بھی اپنے اختلافات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ اگر اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا بھی گیا تو اس کا اطلاق غزہ کی پٹی پر کیسے کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا اختیار صرف مغربی کنارے تک محدود ہے جب کہ غزہ کا فلسطینی علاقے اسلام پسند مزاحمتی تحریک 'حماس' کے قبضے میں ہے جو اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی سخت مخالف ہے۔
XS
SM
MD
LG