رسائی کے لنکس

logo-print

صوبائی اسمبلی کیلئے مخصوص نشستوں پر غیرمسلم امیدواروں کی دلچسپی


رادیش سنگھ

ماضی کی نسبت 2018 کے عام انتخابات میں غیرمسلم اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار اور سیاسی کارکن بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی مختلف سات سیاسی جماعتوں نے صوبائی اسمبلی کے 124 اراکین پر مشتمل ایوان میں غیر مسلم اقلیتوں کیلئے مخصوص تین نشستوں پر مجموعی طور پر 20 امیدواروں کی نامزدگی کا اعلان کیا ہے۔

صوبے کی تاریخ میں پہلی بار سکھ برادری سے تعلق رکھنے والا رادیش سنگھ ٹونی آزاد حیثیت سے پشاور کے ایک صوبائی جنرل نشست پر امیدوار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے غیر مسلموں کیلئے مخصوص نشستوں پر نامزد کردہ تین امیدواروں میں سے ایک خاتون بھی شامل ہے۔

خیبر پختونخوا کی غیر مسلم اقلیتوں میں مسیحوں، سکھوں اور ہندؤں کے علاوہ دور افتادہ شمالی پہاڑی ضلع چترال کی تین وادیوں میں کیلاش برادری کے سینکڑوں خاندان آباد ہیں۔ ماضی میں کسی بھی سیاسی جماعت نے ان لوگوں کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے کی کوشش نہیں کی تھی۔

تاہم، اس بار صوبے کی سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف مخصوص نشستوں پر نامزد کردہ تین نامزد امیدواروں میں سے وزیرزادہ کا تعلق کیلاش برادری سے ہے۔

مذہبی سیاسی جماعتوں یعنی جمعیت علمائے اسلام(ف) اور جماعت اسلامی کے علاوہ مبینہ انتہاپسند جماعت راہ حق نے بھی غیر مسلموں کیلئے مخصوص نشستوں پر دو امیدوار نامزد کر دئیے ہیں۔ 2002 کے عام انتخابات میں چھ مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر مخصوص نشستوں پر دو غیر مسلم افراد ممبران اسمبلی منتخب ہوچکے تھے، جبکہ اس بار متحدہ مجلس عمل میں شامل جمعیت علمائے اسلام(ف) اور جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر دو جماعتوں نے بھی دو امیدواروں کو غیرمسلموں کیلئے مخصوص نشستوں پر نامزد کیا ہے۔

ہندو برادری کے حقوق کے تحفظ کیلئے پچھلے کئی برسوں سے متحرک ہارون سربریال نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلموں کیلئے انتخابی طریقہ کار کو نہ صرف غیر انسانی اور غیر قانونی بلکہ آئین سے بھی متصادم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 226 میں تمام شہریوں کیلئے پارلیمان کیلئے اراکین منتخب کرنے کا طریقہ واضح ہے۔ لہذا، آئین کے تحت تمام غیرمسلم پاکستانیوں کو بھی اپنی مرضی کے مطابق امیدواروں کو منتخب کرانے کا موقع دینا چاہیے۔

ہارون سربریال نے نگران وزیر اعظم سے آئین کے آرٹیکل 226کے تحت تمام غیر مسلم پاکستانیوں کو اپنی مرضی کے مطابق نمائندے منتخب کرنے کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئین کے مطابق مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین کا احتساب کیا جائے۔

پشاور سے صوبائی اسمبلی کی عام نشست پر آزادحیثیت سے حصہ لینے والے رادیش سنگھ ٹونی نے بھی موجودہ طریقہ انتخاب کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے ہی وہ آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ طریقہ کار کے تحت مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے افراد متعلقہ پارٹی کے غلام بن جاتے ہیں اور وہ اپنی برادری کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے پارٹی پالیسیوں کی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔

انتخابی شیڈول کے اعلان کے فوراً بعد، پشاور میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کو نمائندگی نہ ملنے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ تاہم، بعد میں کئی سیاسی جماعتوں نے مسیحی برادری کے کئی افراد کو بھی ترجیحی فہرستوں میں شامل کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG