رسائی کے لنکس

logo-print

کرغز صدر نے مستعفی ہونے کی مشروط پیش کش کردی


کرغزستان کے بے دخل کیے گئے صدر قرمان بک باکیوف نے کہا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں بشر طیہ کہ اُن کے عزیزواقارب کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی جائے۔ منگل کو اپنے آبائی علاقے میں ایک پریس کانفرنس میں کرغزستان کے صدر نے بزور طاقت ہٹائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ ملک پر قابض حکمرانوں کو اپنے استعفیٰ کی پیش کش کی ہے۔

وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان میں گذشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر پرتشد د ہنگاموں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ خونی جھڑپوں کے بعد ملک میں حزب اختلاف کی جماعت نے اقتدار پر قبضہ کر کے وزیر خارجہ روضا اوتن بائیووف کو عبوری سربراہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

اقتدار گنوانے کے بعد صدر قرمان بک باکیوف دارالحکومت بشکیک چھوڑ کر ملک کے جنوب میں اپنے آبائی علاقے میں منتقل ہو گئے تھے اور منگل کو اُن کے چند ہزار حامیوں نے اُن کے حق میں مظاہرے بھی کیے۔

صد ر باکیوف نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اقتدار پر قابض افراد ملک میں آئندہ دو سے تین ماہ میں انتخابات کرانے کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں لاقانونیت کو فوری طور پر ختم کریں اور اُن سے بات چیت کریں۔ ایسی صورت میں اُنھوں نے عہدہ صدارت چھوڑنے کی پیش کش کی ہے ۔ لیکن ان شرائط کے ساتھ ملک اقتدار پر قابض حزب اختلاف کی جماعت صدرباکیوف کے استعفیٰ کا کیا جواب دیتی ہے فوری طور پر اس بارے میں مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG