رسائی کے لنکس

logo-print

ازبکستان نے کرغزستان کے ساتھ سرحد بند کردی


یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ کرغزستان میں نسلی فسادات کیوں شروع ہوئے لیکن عبور ی حکومت کے عہدے داروں نے پیر کے روز ایک” معروف “شخص کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر یہ پرُتشدد ہنگامے شروع کروانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

وسط ایشیائی ریاست اُزبکستان نے کہا ہے کہ اُس نے کرغزستان میں ہلاکت خیز نسلی فساد ات سے جان بچا کر بھاگنے والوں کے لیے اپنی سرحد بند کر دی ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیاگیا ہے جب ایک لاکھ اُزبک مہاجرین اُزبکستان میں داخل ہونے کے لیے کرغزستان کی جنوبی سرحد پر جمع ہو چکے ہیں۔

اُزبک نائب وزیر اعظم عبداللہ ایری پوف نے کہا ہے کہ مزید افراد کے لیے جگہ نہ ہونے کے باعث ازبکستان کی سرحد بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ازبک حکام اب تک 45 ہزار پناہ گزینوں کا اندراج کرچکے ہیں اوران افراد کے لیے ہنگامی امداد ملنے کے بعد سرحد دوبارہ کھول دی جائے گی۔

پیر کے روز اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین نے کہا تھا کہ وہ ایک ہنگامی ٹیم کی تعیناتی کی تیاریا ں کررہا ہے جو کرغزستان سے آنے والے مہاجروں کی دیکھ بھال میں ازبکستان کی معاونت کرے گی۔

کرغزستان میں ہلاکت خیز نسلی فساد سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے ایک کروڑ ڈالر کی ابتدائی امداد کی اپیل کی ہے اور منگل سے یہ عالمی ادارہ کرغز شہر اوش میں امدادی پروازیں بھیجنا شروع کر رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کرغزستان کے جنوبی شہر وں اوش اور جلال آباد میں نسلی فسادات جمعرات کو شروع ہو ئے تھے اور اب تک ان میں 170 افراد ہلاک جبکہ 1700 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

لیکن عینی شاہدین ، بین الاقوامی امدادی اداروں اور اقلیتی اُزبک برادری کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد سرکاری طور پر جاری کیے گئے اعداد وشمار سے کہیں زیادہ ہے۔

کرغزستان میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے وطن واپس پہنچنے پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ اُن کے علاقوں میں سڑکیں لاشوں سے بھری ہوئی تھیں اور کرغز مسلح گروہوں کے ارکان اُزبک خاندانوں کے گھروں میں داخل ہو کر مردو خواتین اور بچوں کو بے دردی سے ہلاک اور اُن کے گھروں کو نذر آتش کر رہے ہیں۔

کرغزستان کے جنوبی علاقے ملک کے سابق صدر کُرمان بیک باقیف کے مضبوط گڑھ ہیں جنہیں اپریل میں ایک خونی بغاوت کے ذریعے حزب اختلافات نے اقتدار سے برطرف کر دیا تھا۔ معزول صدر نے اِن دنوں بلا روس میں پناہ لے رکھی ہے اور انھوں نے کرغزستان میں پرتشدد ہنگاموں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ملک کی عبوری حکومت لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو گئی ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ کرغزستان میں نسلی فسادات کیوں شروع ہوئے لیکن عبور ی حکومت کے عہدے داروں نے پیر کے روز ایک” معروف “شخص کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر یہ پرُتشدد ہنگامے شروع کروانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG