رسائی کے لنکس

جوان بيٹی کا ریپ کے بعد قتل۔ انصاف نہيں چاہيے، والدین


پولیس سٹیشن ماڈل ٹاون لاہور

ضياءالرحمن

لاہور ميں گھر ميں پراسرار طور پرمردہ پائی جانے والی گھريلو ملازمہ کی پوسٹمارٹم رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ منزہ کو زيادتی کے بعد قتل کيا گيا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق منزہ کے چہرے اور گردن پر انگليوں کے نشانات ہيں اور اس کی موت سانس بند ہونے سے ہوئی۔

منزہ کی فورانسک رپورٹ
منزہ کی فورانسک رپورٹ

چوبيس سالہ گھريلو ملازمہ منزہ کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی کی تحصيل ميلسی سے ہے۔ جو ڈيرھ ماہ سے پراپرٹی ڈيلر اسد رضوی کے گھر کام کرتی تھی۔ منزہ تيرہ مئی سنہ دو ہزار سترہ کو صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون کے ايک گھر ميں پر اسرار طور پر مردہ حالت ميں پائی گئی تھی۔

اسد رضوی نے پوليس کو بتايا کہ اس کی ملازمہ اپنے گھريلو حالات اور غربت کی وجہ سے کافی پريشان رہتی تھی اور انہی پريشانيوں کے باعث اس نے خود کشی کی ہے۔ اسد رضوی نے اپنی ملازمہ کی اچانک موت پر اس کے گھر والوں کو بلايا۔ منزہ کے والدين نے اپنی جوان سال بيٹی کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرانے، پوليس تفتيش کرانے اور پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر ديا تھا۔ منزہ کے والدين نے مجسٹريٹ کے سامنے اپنا بيان بھی ريکارڑ کرايا کہ وہ اپنی بيٹی کی ہلاکت کی تفتيش نہيں چاہتے۔ اس کے باوجود پوليس نے مقدمہ درج کرکے تحقيقات شروع کيں اور منزہ کے کپڑوں سے ملنے والے مواد کے نمونے فرانزک ليبارٹری کو بھجوائے۔ منزہ کے والد اللہ وسايا اور والدہ کلثوم نے وائس آف امريکہ اردو کو بتايا کہ ان کے علاقے ميلسي ميں جوان بيٹی کی خود کشی اور پوسٹ مارٹم کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔

ايس پی ماڈل ٹاون اسماعيل کھاڑک کہا کہ معاملہ اتنا سيدھا نہيں تھا جتنا لگ رہا تھا۔ موقع سے کچھ ايسے شواہد ملے تھے جن پر تحقيقات ہونا ضروری تھيں اور ايسا صرف ايف آئی آر درج کر کے ہی ہو سکتا تھا۔

خواتين کے حقوق پر کام کرنے والی غير سرکاری تنظيم عورت فاونڈيشن کی ريزيڈنٹ ڈائريکٹر ممتاز مغل نے وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منزہ کے والدين ڈر اور خوف ميں ہيں کيونکہ وہ جانتے ہيں کہ طاقتور کے خلاف کچھ نہيں ہو سکتا۔ اسی ليے انہوں نے اپنی بيٹی کی ہلاکت پر پوليس تفتيش سے انکار کيا ہے۔ ممتاز مغل کہتی ہيں ايسا تبھی ہوتا ہے جب عام آدمی کا رياست اور اداروں پر سے اعتبار اٹھ جائے کيونکہ انہيں معلوم ہے کہ تھانے اور کچہری کے چکروں سے انہيں کچھ نہيں ملے گا۔ لہذا کچھ لے دے کر ہی حالات سے سمجھوتا کر لو۔

پوليس ريکارڈ کے مطابق رواں سال صرف لاہور ميں ايک سو چون قتل کی وارداتيں ہوئیں جن ميں سے پچاس فيصد تعداد خواتين کی ہيں۔ زيادہ تر خواتين کو غيرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا گيا۔ اعدادوشمار کے مطابق سال دو ہزار سولہ کے دوران ايک سو پچاس سے زائد خواتين صرف لاہور ميں قتل ہوئيں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG