رسائی کے لنکس

چین نے کہا ہے کہ رواں ہفتے انتقال کر جانے والے امن کے نوبیل انعام یافتہ لو شاؤبو کی آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں۔

حکومتی پالیسیوں کے ناقد اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم رہنے والے لو گزشتہ آٹھ سال سے قید تھے اور دوران تحویل ہی انھیں جگر کا سرطان لاحق ہوا۔

وہ شمال مشرقی چینی شہر شنیانگ کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں جمعرات کو 61 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔

اس شہر کی حکومت نے بتایا کہ لو کی آخری رسومات ہفتہ کی صبح منعقد کی گئیں جس میں ان کے لواحقین اور احباب بھی شریک ہوئے۔

لو کی اہلیہ اور دیگر اہل خانہ چینی حکام کی سخت حفاظت میں رہے ہیں اور زیادہ تر بیرونی دنیا سے ان کے رابطوں کو محدود ہی رکھا گیا ہے۔

لو کو چین کے ایک سیاسی قیدی کے طور پر جانا جاتا رہا جن کی رہائی اور بیرون ملک علاج کے لیے متعدد غیر ملکی حکومتوں اور لو کے حامیوں کی طرف سے درخواستیں کی جاتی رہیں لیکن بیجنگ نے انھیں مسترد کر دیا تھا۔

لو شاؤبو نے 1988ء میں بیجنگ کی ایک یونیورسٹی سے چینی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔

لو 1989ء میں چین میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں پیش پیش تھے اور اس کے بعد سے مسلسل چین میں جمہوری اور شہری آزادیوں کے حق میں آواز اٹھاتے رہے۔

وہ 1989ء کے بعد سے متعدد بار گرفتار ہوئے اور کئی سال تک قید بھی رہے۔ انہیں آخری بار 2008ء میں چین میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا اور 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس قید کے دوران ہی انہیں چین میں "بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عدم تشدد پر مبنی طویل جدوجہد" کرنے پر 2010ء میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا جسے وہ قید میں ہونے کی وجہ سے وصول نہیں کرسکے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG