رسائی کے لنکس

logo-print

لندن: انڈر گراونڈ ٹیوب ملازمین کی ہڑتال


'انڈر گراونڈ ٹرانسپورٹ یونین' نے حکام کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد پیر کی شب 9 بجے سے آئندہ 48 گھنٹوں تک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لندن انڈرگراونڈ ٹیوب ورکرز یونین نے ٹکٹ گھروں کی بندش اور ملازمتوں میں کٹوتیوں کے خلاف پیر کی شب سے دو روزہ ہڑتال کا آغاز کر دیا ہے۔

ہڑتال کے باعث دنیا کی مصروف ترین ٹیوب سروس کی معطلی کی وجہ سے لندن کے شہریوں کی بڑی تعداد کو منگل کی صبح سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق 'انڈر گراونڈ ٹرانسپورٹ یونین' اور 'ریل میری ٹائم' نے 'لندن انڈر گراونڈ' کے عہدیداروں کے ساتھ جاری مذاکرات میں ناکامی کے بعد پیر کی شب 9 بجے سے آئندہ 48 گھنٹوں تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹرانسپورٹ یونین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہیں مانے گئے تو آئندہ ہفتے بھی احتجاج کیا جائے گا اور ٹیوب ملازمین کی جانب سے تین روزہ ہڑتال کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق 'انڈر گراونڈ ٹرانسپورٹ یونین' کی جانب سے ٹکٹ گھروں کے بند کئے جانے کی وجہ سے تقریبا ایک ہزار ٹیوب ملازمین کی بے روزگاری کے خلاف ایک بار پھر سےاحتجاجی عمل کو دہرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ورکرز یونین اس سے قبل بھی اسی مقصد کے تحت فروری میں بھی ہڑتال کر چکی ہے جس کی وجہ سے تقریبا 70 فیصد ٹیوب سروسز متاثر ہوئیں تھیں۔

دوسری جانب لندن کے مئیر بورس جانسن نے انڈرگراونڈ ٹیوب سروس کو جدید تر بنانے کے لیے ٹکٹ گھروں پر بندش قائم رکھنے کا عندیہ دیا ہے جن کے مطابق ٹکٹ گھروں سے ٹکٹ خریدنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

مئیر بورس جانسن نے ٹرانسپورٹ ورکرزکی ہڑتال کو غیر ضروری اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹ یونین من مانی کرنے کے بجائے دیگر تین ورکرز یونین کی طرح مذاکرات میں شریک ہو جنھوں نے ہڑتال کے اقدام سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر 'ٹرانسپورٹ فار لندن' کی جانب سے بسوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی مسافروں سے درخواست کی گئی ہے کہ منگل کی صبح ٹریفک جام کے مسئلے سے بچنے کے لیے پیدل یا پھرسائیکل کا استعمال کریں۔
XS
SM
MD
LG