رسائی کے لنکس

logo-print

طویل گھنٹوں کی ملازمت اور رومانوی تعلقات کے درمیان تعلق


جرمن ماہرین معاشیات یہ اندازا لگانا چاہتے تھے کہ کیا لوگوں کو کرئیر میں ترقی یا رومانوی رشتے میں سے کسی ایک کو چننے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

ایک عام مفروضے کے مطابق ملازمت اور ازدواجی رشتے کے درمیان توازن ایک خوشحال زندگی کی ضمانت بنتا ہے تاہم سائنس دانوں نے اس کہاوت کو سائنسی پیمانے پر پرکھا ہے۔

سائنس دانوں کی تحقیق 'کیا طویل گھنٹوں کی ملازمت بدترین رومانوی تعلقات کو جنم دیتی ہے' کے عنوان سے 'جرنل ہیومن ریلیشن 'میں شائع ہوئی ہے، جس میں جرمن ماہرین معاشیات یہ اندازا لگانا چاہتے تھے کہ کیا لوگوں کو کرئیر میں ترقی یا رومانوی رشتے میں سے کسی ایک کو چننے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

سوئٹزر لینڈ کی' ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی' سے منسلک تحقیق کی قیادت کرنے والے تفتیش کار ڈین انگر نے کہا کہ ہمارے مطالعے نے روایتی دانش مندی اور متعدد سائنسی مطالعوں پر یہ سوال کھڑا کیا ہے، جو کہتے ہیں کہ لمبے گھنٹوں تک کام کرنے والوں کا رومانوی رشتہ خطرے میں ہوتا ہے۔

اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے ڈپارٹمنٹ آف منیجمنٹ، ٹیکنالوجی اینڈ اکنامکس سے وابستہ تحقیق کار ڈین انگر اور شریک تحقیق کاروں نے ایک مطالعہ شروع کیا۔ جس میں 285 ملازمت پیشہ شادی شدہ جوڑے شامل تھے۔

مطالعے کے شرکاء سے ایک سوالنامہ بھروایا گیا، جس میں ان سے کام کے گھنٹوں کا ریکارڈ اور ذاتی زندگی میں اطمینان کے حوالے سے پوچھا گیا تھا جبکہ یہ بھی دیکھا گیا کہ دیکھنے میں ان جوڑوں کا رومانوی رشتہ کیسا لگتا ہے۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ ایسے جوڑے جو کام پر زیادہ وقت گزارتے تھے، وہ کام کے باہر بھی شریک حیات کے ساتھ زیادہ موثر طریقے سے اپنا وقت گزار رہے تھے۔

محقق ڈین انگر نے سائنسی پرچے میں لکھا کہ کرئیر رکھنے والے لوگ جو کام پر زیادہ گھنٹے خرچ کرتے ہیں، اکثر اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ وہ اپنا وقت کہاں مختص کریں، جس کی وجہ سے وہ کم وقت کے باوجود شریک حیات کے ساتھ زیادہ معیاری وقت گزار رہے تھے۔

نتائج کا خلاصہ کرتے محقق دین انگر نے کہا کہ ہمیں کام کے وقت اور رومانوی اطمینان کے درمیان منفی تعلق نہیں ملا ہے بلکہ ہمارے نتیجے نے عام نظریہ کو چیلنج کیا ہے۔

اس مطالعے سے قبل ای ہارمونی نامی ایک رسالے میں شائع ہونے والے ایک مضمون سے بھی اس نتیجے کی توثیق ہوتی ہے۔

جس میں بتایا گیا تھا کہ کرئیر کے ساتھ بھاری کام کا بوجھ اٹھانے والے لوگ دوستی اور تعلقات نبھانے کا ہنر زیادہ اچھی طرح سے جانتے ہیں۔

البتہ نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ کام کرنے کی لت میں مبتلا افراد وہ ہوتے ہیں جنھیں دفتر یا کام کی جگہ پر رہنا اس لیے اچھا لگتا ہے کیونکہ وہ گھر یا سماجی زندگی میں ملنے والی توجہ کے مقابلے میں اپنے کرئیر سے ملنے والی توجہ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

تاہم محققین نے کہا کہ ہمارے مطالعے تجویز کرتا ہے کہ اگر ایک شخص کامیاب کرئیر کے ساتھ صحت مند رومانوی رشتے کو بھی اچھی طرح سے نبھانا چاہتا ہے تو ایسے بہت سے طریقے ہیں مثلاً کبھی کبھار خاندان کے ساتھ رات کے کھانے پر باہر جانا یا پھر چھوٹی موٹی تعطیلات لے کر گھومنے کے لیے نکل جانا وغیرہ وغیرہ جنھیں اپنا کر ازدواجی زندگی کو خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG