رسائی کے لنکس

logo-print

چین کا دریائے میکانگ کا توسیعی منصوبہ اور علاقائی خدشات


چین سمیت چھ ہمسایہ ملکوں سے گزرنے والے دریائے میکانگ کا ایک منظر۔ فائل فوٹو

اب جب کہ چین ایشیا بھر میں نقل و حمل کے نئے راستوں کے ذریعے اپنے اقتصادی رابطے مستحکم کرنے کے لیے سڑکوں اور راستوں کی تعمیر سے متعلق اپنے پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے، دریائے میکانگ کو ممکنہ طور پر ناقابل تنسیخ تبدیلیوں کا سامنا ہے کیوں کہ چینی انجنیئرز پانچ سو ٹن سامان لے جانے والی بار بردار کشتیوں کی گزارنے کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے دریا کے ساحلی حصوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا رہے ہیں۔

چھ ایشیائی ملکوں سے گزرنے والے دریائے میکانگ پر ان کارروائیوں سے کئی گروپس متاثر ہو سکتے ہیں۔

دریائے میکانگ کے قریب جاری ترقیاتی اور تجارتی سر گرمیوں نے اس کے ساحلوں پر رہنے والے بہت سے لوگوں کے لیے اقتصادی منظر نامہ تبدیل کر دیا ہے ۔ چین کے سات ہائیڈرو پاور ڈیموں کے اثرات کی وجہ سے جو پانی کے بہاؤ اور مچھلیوں کو کنٹرول کرتے ہیں، کئی علاقوں میں ماہی گیروں کا منافع سکڑ گیا ہے۔

ایک تھائی ماہی گیر مانس سوٹاوانگ کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہمیں 16 سینٹی میٹر اور 14 سینٹی میٹر لمبی کی مچھلیاں ملتی تھیں لیکن اب ہمیں صرف 10سینٹی میٹر کی ملتی ہیں۔ وہاں کچھ بڑی مچھلیاں ابھی تک باقی ہیں لیکن اتنی زیادہ نہیں ہیں جتنا پہلے ہوا کرتی تھیں۔

ملکوں کو ملانے والے بڑی شاہراہیں پہلے ہی تعمیر ہو چکی ہیں، لیکن چین دریائے میکانگ کے ساحل کے ساتھ ایک میل کی پٹی پر پتھروں اور ریتلے ٹیلوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر اس کی توسیع کر رہا ہے ۔

گزشتہ سال ماحولیات کے تحفظ سے متعلق مظاہروں کی وجہ سے منصوبے کو روک دیا گیا تھا۔ لیکن مچھلیوں کے افزائشی علاقوں اور فارم لینڈ کو نقصان پہنچنے کے شواہد کے باوجود، ماحولیات کے علمبردار کو ڈر ہے کہ توسیع کا عمل انجام پائے گا۔

تھائی علاقے میں قائم ایک گروپ راک چھیانگ کانگ کے بانی نیواٹ روئکیو کہتے ہیں کہ چین اپنی اقتصادی طاقت بڑھا رہے۔ یہ ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ کے ذریعے کنٹرول اور طاقت حاصل کرنے کی ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہ عالمی اقتصاديات کو کنٹرول کرنے کے ان کے منصوبے کی بنیاد ہے۔ تمام فوائد صرف انہی کو حاصل ہوں گے۔

مخالفت کے باوجود مقامی کاروباری گروپس توسیع کو سیاحوں کے ڈالرز لانے کے ایک موقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

گولڈن ٹرائی اینگل میں ایک مقامی تجارتی بندر گاہ کو سیاحوں کے ایک مرکز میں تبدیل کرنے کے ایک منصوبے کو مقامی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

چیانگ سین پورٹ کے منیجر سٹہوٹ نواسنگ کہتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ پراجیکٹ بنے۔ اسے مکمل کریں اور اسے وسیع دیں۔ بہت سے لوگوں کو تشویش ہے کہ اگر ہم دریا کو مزید چوڑا کریں گے تو چینی کشتیاں چیانگ سائی کے قریب سے گزر جائیں گی اور رکیں گی نہیں اور وہ کہیں اور سے مصنوعات خریدیں گے۔ لیکن میری رائے میں یہ درست نہیں ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ پراجیکٹس صرف تمام فریقوں کی مشترکہ مرضی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ پراجیکٹ واقعی اتنا فائدہ دے گا کہ ماحولیات پر پڑنے والے اس کے منفی اثرات کو برداشت کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG